گورنر کا اجلاس آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے، سہیل آفریدی
پشاور:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے گزشتہ روز چیف سیکریٹری اور آئی جی سمیت دیگر حکام کا اجلاس بلانے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت، صوبائی اسمبلی اور کابینہ مکمل طور پر فعال ہیں۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گورنر کی جانب سے اس نوعیت کے اجلاس کی صدارت آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے۔
ان کے مطابق وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ عدم اعتماد ہے، جبکہ گزشتہ روز کے اجلاس کی آئینی حیثیت پر ایڈووکیٹ جنرل سے قانونی رائے لی جائے گی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ گورنر کی سرگرمیوں کا مقصد صوبائی حکومت کو اشتعال دلانا اور ردعمل پر مجبور کرنا ہے، تاہم صوبائی حکومت پرامن رہے گی اور آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرے گی۔
انہوں نے آئی جی اور چیف سیکریٹری کو بھی کسی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے دہشت گردی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن کے لیے پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔
ان کے بقول گزشتہ 22 برس کے دوران متعدد انٹیلیجنس بیسڈ اور بڑے فوجی آپریشنز کے باوجود صوبے میں مستقل امن قائم نہیں ہوسکا، اس لیے دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت کے پاس امن کے قیام کے لیے اپنی پالیسی پر عمل درآمد کا موقع دیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے قبائلی اضلاع کے مالی حقوق، این ایف سی شیئر اور متاثرین کے معاوضوں سمیت مختلف امور کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق قبائلی اضلاع کے متاثرین کے تقریباً 100 ارب روپے کے معاوضے واجب الادا ہیں، جبکہ صوبائی حکومت نے بے گھر افراد کے لیے اب تک 21 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ صوبے کو وفاقی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور پولیس امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ ہیں اور پولیس کو غیر متعلقہ مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے صوبائی وزرا اور کارکنوں کے ساتھ پیش آنے والے بعض واقعات کا بھی ذکر کیا اور متعلقہ واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت کسی بھی اشتعال انگیزی کا جواب آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دے گی۔

