مکہ معاہدے کا مقصد سعودیہ کا دفاع کرنا ہے اور دفاع کیا جائے گا،ترجمان پاک فوج
راولپنڈی:پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی افواج کئی دہائیوں سے مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں سعودی عرب میں موجود ہیں، جبکہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اچانک وجود میں آنے والا اتحاد نہیں بلکہ خطے میں بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں دفاعی تعاون کا حصہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ معاہدے کا نفاذ اور اس کے تحت ہونے والی تمام کارروائیاں خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہوں گی۔
ان کے مطابق یہ فیصلہ آپریشنل کمانڈرز کریں گے کہ کس نوعیت کا دستہ تعینات کیا جائے گا اور اسے کس انداز میں استعمال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں گزشتہ برسوں کے دوران نئے سیکیورٹی چیلنجز سامنے آئے ہیں اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ دفاعی قوت کا کردار ادا کرے گا۔
ان کے بقول معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے کسی بھی ممکنہ جارحیت کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد کسی ملک کو دشمن یا دوست قرار دینا نہیں، بلکہ سعودی عرب کا دفاع یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور تنازع کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے بھی اختلافات کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی یہ کردار ادا کرتا رہے گا۔پاکستان نہیں چاہتا کہ یہ تنازع مزید پھیلے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے غیر جانب دار ثالث کے طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مفاد علاقائی امن و استحکام میں ہے اور تمام شراکت داروں اور دوست ممالک کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جنگ کو مزید پھیلانے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔

