تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com) (بریڈفورڈ، انگلینڈ)
امریکا کے آخری فوجی دستوں کے عراق سے انخلا نے مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں ایک نئے باب کا آغاز کردیا ہے۔ 30 ستمبر کو امریکی افواج نے عراق میں اپنی آخری پوزیشنیں بھی چھوڑ دیں، جس کے ساتھ 2003 میں شروع ہونے والی امریکی فوجی موجودگی کا ایک طویل دور اختتام پذیر ہوگیا۔
امریکی فوج عراق میں پہلی مرتبہ 2003 میں داخل ہوئی تھی، جب صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے فوجی کارروائی کی گئی۔اس جنگ نے عراق کے سیاسی، معاشی اور سلامتی کے نظام کو گہرے طور پر متاثر کیا اور آنے والے برسوں میں ملک طویل بدامنی کا شکار رہا۔امریکی افواج 2011 کے آخر میں عراق سے نکل گئی تھیں، لیکن صرف چند سال بعد 2014 میں دوبارہ واپس آئیں۔
اس مرتبہ بنیادی مقصد داعش کے خلاف عراقی فورسز کی مدد کرنا تھا، جس نے عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا۔داعش کے خلاف جنگ کے دوران امریکی فوج نے فضائی کارروائیوں، انٹیلی جنس، تربیت اور دیگر فوجی معاونت کے ذریعے عراقی فورسز کی مدد کی۔
اگرچہ داعش کی علاقائی خلافت ختم کردی گئی، تاہم تنظیم کے خفیہ نیٹ ورک اور سلیپر سیلز اب بھی عراق کے لیے ایک خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔عراق سے موجودہ امریکی انخلا اچانک لیا گیا فیصلہ نہیں تھا۔
امریکی اور عراقی حکومتوں کے درمیان 2024 میں اس انخلا پر اتفاق ہوا تھا، جس کے تحت اتحادی افواج کی عراق میں موجودگی ختم کرکے سلامتی کی ذمہ داری زیادہ تر عراقی اداروں کو منتقل کرنا تھی۔یہ فیصلہ اب ایسے وقت میں مکمل ہوا ہے جب پورا خطہ امریکا اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی کا سامنا کررہا ہے۔
عراق اس کشمکش میں ایک منفرد ملک رہا ہے، کیونکہ اس کے امریکا کے ساتھ بھی تعلقات ہیں اور ایران کے ساتھ بھی گہرے سیاسی و سلامتی کے روابط موجود ہیں۔ایران نے امریکی فوج کے عراق سے انخلا کو اپنے علاقائی نقطۂ نظر سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
تہران کے اتحادی مسلح گروہوں نے بھی اسے امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کی کامیابی کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ بعض عراقی حلقے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ سلامتی کے خلا پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ایران کی تشویش اور اطمینان کے ساتھ ہی 29 ستمبر کو ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی عوام کے نام ایک طویل کھلا خط بھی جاری کیا۔
خط میں امریکی شہریوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کو استعمال کریں اور ایسی امریکی پالیسیوں کو مسترد کریں جنہیں تہران جنگ اور بیرون ملک فوجی مداخلت سے جوڑتا ہے۔یہ خط دراصل 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
ان انتخابات میں امریکی عوام کانگریس کے ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں، اس لیے نتائج صدر کی آئندہ پالیسیوں پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے خط میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ امریکی عوام اپنے ووٹ کے ذریعے واشنگٹن کی پالیسی کا رخ تبدیل کرسکتے ہیں۔ خط میں اسرائیل کی حمایت، بیرون ملک فوجی کارروائیوں اور ایران کے خلاف امریکی پالیسی کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
خط میں 2003 کی عراق جنگ کا بھی حوالہ دیا گیا اور یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ امریکی حملے نے ایسے حالات پیدا کیے جن سے عراق میں ایران کا اثر و رسوخ بڑھا۔
تہران کی نظر میں عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کو اسی طویل علاقائی تبدیلی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
تاہم اس خط کا امریکی عوام پر کتنا اثر پڑے گا، یہ ایک الگ سوال ہے۔ خود ایرانی حکام نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ممکن ہے بہت سے امریکی شہری اس خط کو دیکھیں ہی نہ، لیکن تہران کا مقصد یہ ہے کہ امریکی ووٹرز تک اپنا سیاسی پیغام پہنچایا جائے۔امریکی وسط مدتی انتخابات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ صدر کے اختیارات مکمل طور پر صدر تک محدود نہیں ہوتے۔
کانگریس قانون سازی، بجٹ اور حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتی ہے، اس لیے کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے سے صدر کے لیے بعض پالیسیوں کو آگے بڑھانا مشکل یا آسان ہوسکتا ہے۔ایران نے امریکی سیاست میں مہنگائی، زندگی کے بڑھتے اخراجات اور ایندھن کی قیمتوں جیسے مسائل کو بھی اپنے پیغام کا حصہ بنایا ہے۔
عالمی تیل کی منڈی میں ہونے والی تبدیلیاں امریکی عوام کے روزمرہ اخراجات پر اثر انداز ہوسکتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی صرف خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ اندرونی سیاست سے بھی جڑ جاتی ہے۔اس پورے معاملے میں آبنائے ہرمز بھی انتہائی اہم حیثیت رکھتی ہے۔
خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع یہ سمندری راستہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے نہایت اہم ہے، اس لیے وہاں کشیدگی یا تیل کی ترسیل میں رکاوٹ عالمی منڈیوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔حالیہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ ایک بنیادی نکتہ بن چکا ہے۔
ایران نے محدود مدت کے منصوبے کے تحت آبنائے کو کھولنے اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز پیش کی، جبکہ امریکا کی جانب سے وسیع تر شرائط اور مختلف اقدامات پر زور دیا گیا۔مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دونوں ممالک مذاکرات کرنا چاہتے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل مشکل یہ ہے کہ پہلا قدم کون اٹھائے۔
ایران چاہتا ہے کہ کچھ امریکی اقدامات پہلے سامنے آئیں، جبکہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ تہران بھی اپنی طرف سے قابلِ اعتماد عملی اقدامات کرے۔ یہی ترتیب کا اختلاف مذاکرات کو آگے بڑھنے سے روک رہا ہے۔ان مذاکرات میں ثالثی کے لیے قطر سمیت بعض علاقائی ممالک بھی سرگرم ہیں۔
مختلف تجاویز میں آبنائے ہرمز میں آمدورفت بحال کرنے، پابندیوں میں کچھ نرمی، ایرانی اثاثوں تک رسائی اور جوہری معاملے پر دوبارہ بات چیت جیسے نکات شامل رہے ہیں، لیکن دونوں جانب سے حتمی اتفاق ابھی واضح نہیں ہے۔اس تمام سفارتی عمل میں پاکستان کا نام بھی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔
اسلام آباد نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کے لیے مختلف مواقع پر اپنا کردار ادا کیا ہے، اور حالیہ علاقائی سفارت کاری میں پاکستان کا نام بھی ان ممالک میں شامل رہا ہے جن کے ذریعے پیغامات اور رابطوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی۔دوسری جانب عراق سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کے بعد بغداد کے سامنے ایک نیا چیلنج ہے۔
ایک طرف ملک اپنی مکمل خودمختاری اور سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھالنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف داعش کے باقی ماندہ نیٹ ورک اور ایران سے منسلک مسلح گروہوں کے اثر و رسوخ جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔
ایران کے لیے عراق سے امریکی انخلا صرف ایک فوجی تبدیلی نہیں بلکہ وسیع تر علاقائی طاقت کے توازن سے جڑا معاملہ ہے۔
امریکی موجودگی کم ہونے سے ایران کے حامی گروہوں کے لیے سیاسی اور سلامتی کے میدان میں زیادہ گنجائش پیدا ہونے کا خدشہ بعض تجزیہ کاروں نے ظاہر کیا ہے، اگرچہ عراق کے اندر مختلف سیاسی اور سماجی قوتیں اس صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتی ہیں۔اب نظریں 3 نومبر کے امریکی انتخابات اور اس سے پہلے ہونے والی سفارتی سرگرمیوں پر ہیں۔
اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار رہتی ہے تو تیل، ایندھن، خارجہ پالیسی اور جنگ کے اخراجات جیسے معاملات امریکی سیاسی بحث میں مزید نمایاں ہوسکتے ہیں، جبکہ کسی سفارتی پیش رفت سے صورتحال کا رخ مختلف بھی ہوسکتا ہے۔عراق سے امریکی فوج کا انخلا، ایران کا امریکی عوام کے نام کھلا خط، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور 3 نومبر کے انتخابات بظاہر الگ الگ واقعات ہیں، لیکن حقیقت میں یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
آنے والے ہفتے یہ واضح کریں گے کہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن کس سمت جاتا ہے اور امریکا و ایران کے درمیان کشیدگی مذاکرات کی میز پر کم ہوتی ہے یا دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے۔

