تحریر:مبین علی
کیا ہم سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، یا سوشل میڈیا ہماری سوچ کو استعمال کر رہا ہے؟
یہ سوال آج ہم سب کے لیے اہم ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات سونے تک ہماری انگلیاں موبائل کی اسکرین پر چلتی رہتی ہیں۔ کوئی خبر سامنے آتی ہے تو ہم فوراً اسے آگے پہنچا دیتے ہیں، کوئی ویڈیو وائرل ہوتی ہے تو بغیر حقیقت جانے اس پر رائے قائم کر لیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب تو کر دیا ہے، مگر کہیں نہ کہیں سوچنے، رکنے اور حقیقت جاننے کی عادت ہم سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر آج بہت سے یوٹیوبرز اور دیگر صارفین کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ رائے دینا ہر شخص کا حق ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب قیاس آرائیوں اور غیرمصدقہ باتوں کو ایسے انداز میں پیش کیا جائے جیسے وہ کوئی حتمی حقیقت ہوں۔ بعض اوقات الفاظ میں ایسا رنگ، سنسنی اور تجسس شامل کر دیا جاتا ہے کہ دیکھنے والا ویڈیو کو آخر تک دیکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ چند لمحوں کی ویڈیو زیادہ توجہ حاصل کرنے کے لیے حقیقت سے زیادہ اندازِ بیان پر انحصار کرنے لگتی ہے، اور یوں ایک غیرمصدقہ بات دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر آج یہ عام ہوتا جا رہا ہے کہ فیس بک پر کوئی خبر یا اسٹوری سامنے آتی ہے اور اگر اس میں سنسنی یا دلچسپ بات شامل ہو تو کچھ ہی دیر بعد وہی چیز ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ایکس پر بھی نظر آنے لگتی ہے۔ یوٹیوبرز اور وی لاگرز اس پر ویڈیوز بناتے ہیں اور بات ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم تک پھیلتی چلی جاتی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اکثر اس بات کی حقیقت جاننے یا تحقیق کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ کچھ لوگ صرف ویوز، سبسکرائبرز اور اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے ایسی باتوں کو مزید سنسنی خیز بنا کر پیش کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک غیرضروری یا نقصان دہ بات ہر جگہ زیرِ بحث آ جاتی ہے اور لوگ اصل حقیقت جاننے کے بجائے اسی بحث کا حصہ بن جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بعض اوقات ہمارے اداروں اور مختلف شعبوں سے وابستہ لوگوں کے خلاف بھی ایسی مہمات نظر آتی ہیں جن میں قانون اور انصاف کے نظام کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ اساتذہ جیسے معزز شعبے سے وابستہ افراد کو بھی تنقید اور غیرمصدقہ باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بعض لوگوں کی ذاتی زندگی کو بھی سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا دیا جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسی بہت سی پوسٹس اور ویڈیوز لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں اور یوں ایک غیرمصدقہ بات بہت بڑے پیمانے پر پھیل جاتی ہے۔
اس صورتحال کا ایک اور اہم پہلو سکیورٹی فورسز کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔ بعض اوقات ملک دشمن عناصر یا ان کے حامی سوشل میڈیا پر من گھڑت خبریں اور کہانیاں پھیلاتے ہیں، جن کا مقصد سکیورٹی فورسز کے بارے میں لوگوں میں غلط تاثر پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ملک میں کسی دہشت گردی یا سکیورٹی کے واقعے کے بعد بھی بعض غیرمصدقہ معلومات سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل جاتی ہیں۔ واقعے کے اصل حقائق سامنے آنے سے پہلے ہی مختلف دعوے شروع ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات بات کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے بارے میں شکوک پیدا ہوں۔
ایسے حالات میں ضروری ہے کہ کسی بھی خبر کو فوراً سچ ماننے یا آگے بڑھانے کے بجائے اس کی تصدیق کی جائے۔ کیونکہ ایک غلط خبر صرف چند لوگوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے چند گھنٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔
اس صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی غیرمصدقہ معلومات اب نوجوانوں کی سوچ اور گفتگو کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ مختلف ملاقاتوں، سیمینارز اور اہم نشستوں میں ایسی باتوں پر بحث کرتے نظر آتے ہیں جو انہوں نے سوشل میڈیا پر دیکھی یا سنی ہوتی ہیں، لیکن ان کی حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کی ہوتی۔ بعض اوقات یہی معلومات ان کے سوالات اور رائے کی بنیاد بن جاتی ہیں۔
یہ رجحان اس لیے خطرناک ہے کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا سب سے اہم طبقہ ہوتے ہیں۔ اگر ان کی سوچ تحقیق اور حقیقت کے بجائے افواہوں، قیاس آرائیوں اور سوشل میڈیا کی سنسنی خیزی سے متاثر ہونے لگے تو اس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے پر پڑ سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو سوال کرنے سے نہیں روکنا، بلکہ انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ سوال کرنے سے پہلے معلومات کی حقیقت جانچنا بھی ضروری ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک اور خطرناک رجحان پرانی ویڈیوز یا مختصر کلپس کو نئے واقعات کے ساتھ جوڑ کر پیش کرنا ہے۔ کسی اہم شخصیت کا پرانا بیان یا ویڈیو، جو اس نے کسی دوسرے موقع پر کسی مختلف معاملے کے حوالے سے دیا ہو، اسے موجودہ واقعے کے ساتھ جوڑ کر اس کا مطلب بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح کسی پرانے واقعے کی ویڈیو نکال کر اسے موجودہ صورتحال سے منسلک کر دیا جاتا ہے، جس سے دیکھنے والے کو یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ سب ابھی پیش آیا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو یا ایک مختصر بیان کے ساتھ ایسی معلومات شامل کر دی جاتی ہیں جن کا اصل واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یوں ایک پرانی ویڈیو یا بیان نئی خبر بن جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں لوگ اسے حقیقت سمجھ کر آگے پھیلا دیتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس ساری صورتحال کا توڑ کیا ہے؟ ہر خبر کی تحقیق ضروری ہے، لیکن عام آدمی کے لیے یہ سوال بھی اہم ہے کہ تحقیق کرے تو کہاں سے؟ اس کا آسان راستہ یہ ہے کہ کسی خبر کو صرف ایک سوشل میڈیا پوسٹ کی بنیاد پر درست نہ مانا جائے۔ دیکھا جائے کہ کیا معتبر نیوز اداروں نے بھی اسے رپورٹ کیا ہے، خبر کی تاریخ اور جگہ کیا ہے، ویڈیو واقعی اسی واقعے کی ہے یا نہیں، اور اہم معاملات میں متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی تصدیق یا وضاحت سامنے آئی ہے یا نہیں۔ اگر کسی خبر کی تصدیق نہ ہو سکے تو اسے آگے نہ پھیلانا ہی بہتر ہے، کیونکہ کبھی کبھی خاموش رہنا بھی غلط خبر پھیلانے سے زیادہ ذمہ دارانہ عمل ہوتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ صرف عوام سے تحقیق کا مطالبہ نہ کیا جائے بلکہ انہیں تحقیق کا طریقہ بھی بتایا جائے۔ ہر شخص کے پاس اخبار، ٹی وی یا معتبر نیوز ذرائع تک آسان رسائی نہیں ہوتی، لیکن آج تقریباً ہر ہاتھ میں موبائل اور سوشل میڈیا موجود ہے۔اس لیے عام لوگوں کے لیے آسان زبان میں آگاہی پروگرام ہونے چاہئیں، جن میں انہیں بتایا جائے کہ جھوٹی خبر، پرانی ویڈیو اور غیرمصدقہ معلومات کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے۔ آج جب موبائل ہر ہاتھ میں ہے تو خبر کی سچائی پہچاننے کا شعور بھی ہر ہاتھ تک پہنچنا چاہیے۔
ڈس انفارمیشن کا مقابلہ صرف حکومت یا میڈیا کی ذمہ داری نہیں، بلکہ اس میں اداروں، تعلیمی حلقوں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور عام صارف، سب کا اپنا کردار ہے۔
سوشل میڈیا کو چھوڑنا حل نہیں، اسے ذمہ داری سے استعمال کرنا اصل ضرورت ہے۔
