جمہوریت میں سیاسی اختلاف اور احتجاج ہر شہری اور سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے۔ آئینِ پاکستان پُرامن اجتماع اور اپنے مؤقف کے اظہار کی اجازت دیتا ہے، اور اس حق کا احترام ہونا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر احتجاج ہمارا حق ہے تو کیا اس کے دوران عام شہری کے حقوق، روزگار، سفر اور روزمرہ زندگی کا خیال رکھنا بھی ہماری ذمہ داری نہیں؟ کیا سیاسی احتجاج کی آواز اتنی بلند ہونی چاہیے کہ اس میں ایک عام آدمی کی مشکلات کی آواز دب جائے؟
ہمارے ملک میں ماضی کے احتجاجوں، دھرنوں اور طویل سیاسی سرگرمیوں کا تجربہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ ایسے احتجاج جہاں سیاسی مطالبات کی آواز بلند کرتے ہیں، وہیں ان کے اثرات عام آدمی کی زندگی پر بھی پڑتے ہیں۔ سب سے زیادہ مشکلات اس غریب اور محنت کش طبقے کو پیش آتی ہیں جو روزانہ کی مزدوری سے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔ سڑکیں بند ہوں، کاروبار متاثر ہو یا آمدورفت رک جائے تو اس کی روز کی آمدن بھی رک جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سیاسی مقصد کے حصول کے لیے احتجاج ضروری ہو سکتا ہے، لیکن کیا اس کی قیمت ایک عام اور غریب شہری سے وصول ہونی چاہیے؟
اکثر سوشل میڈیا پر ہم دیکھتے ہیں کہ کسی رکشہ ڈرائیور کا ٹریفک چالان ہو جائے، کسی ریڑھی بان کو قانون کی خلاف ورزی پر سڑک یا فٹ پاتھ سے ہٹایا جائے تو فوراً آوازیں اٹھنے لگتی ہیں کہ غریب کے ساتھ زیادتی ہوئی، اس کا روزگار چھین لیا گیا۔ ایسی ویڈیوز لاکھوں مرتبہ دیکھی اور شیئر کی جاتی ہیں۔ لیکن کبھی ہم نے احتجاج اور دھرنوں کے دوسرے رخ پر بھی غور کیا ہے؟ کبھی سوچا ہے کہ سڑکیں بند ہونے اور کاروباری سرگرمیاں رکنے سے کتنے دیہاڑی دار مزدوروں، رکشہ ڈرائیوروں، ریڑھی بانوں اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کی ایک دن کی آمدن متاثر ہوتی ہے؟ شاید ہم احتجاج کو صرف ایک سیاسی منظر کے طور پر دیکھتے ہیں، اس کے پیچھے کھڑے اس عام آدمی کو نہیں دیکھتے جس کے لیے ایک دن کا روزگار رک جانا بھی ایک بڑا نقصان ہے۔
مسئلہ صرف مزدور یا ریڑھی بان تک محدود نہیں۔ سڑکیں بند ہونے سے دور دراز علاقوں سے آنے والے مسافر، مریض، طلبہ اور روزانہ ملازمت پر جانے والے افراد بھی شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ کسی مریض کا بروقت اسپتال نہ پہنچ پانا یا کسی مزدور کا کام پر نہ پہنچ سکنا محض ایک معمولی تکلیف نہیں، بلکہ بعض اوقات اس کے سنگین نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔
موجودہ عالمی حالات بھی ہم سے زیادہ سنجیدگی اور اتحاد کا تقاضا کرتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور ایران سمیت خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔ مہنگائی، توانائی اور دیگر معاشی مسائل پہلے ہی عام آدمی کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر اندرونی طور پر بھی طویل احتجاج، دھرنے اور سیاسی کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات ہماری معیشت، کاروبار اور مجموعی قومی استحکام پر مزید پڑ سکتے ہیں۔ کم از کم ایسے مشکل عالمی اور علاقائی حالات میں ہمیں مجموعی طور پر زیادہ متحد اور ذمہ دار ہونے کی ضرورت ہے، کیونکہ اندرونی انتشار اور طویل احتجاج کا نقصان بالآخر ملک اور عام شہری دونوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
اسی پس منظر میں پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور لانگ مارچ کی کال بھی دی گئی ہے۔ اپنے سیاسی مطالبات کے لیے آواز اٹھانا اور پُرامن احتجاج کرنا پی ٹی آئی کا آئینی و سیاسی حق ہے، لیکن اس احتجاج کے طریقۂ کار اور اس کے ممکنہ اثرات پر بھی سنجیدگی سے غور ضروری ہے۔ کیا ایسا احتجاج ممکن نہیں جس میں سیاسی آواز بھی پوری قوت سے سامنے آئے اور عام شہری کا روزگار، سفر اور روزمرہ زندگی بھی متاثر نہ ہو؟
ریاست ماں جیسی ہوتی ہے۔ ایک ماں اپنے بچوں کو لڑتے ہوئے دیکھے تو سب کو سمجھاتی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری بھی یہی ہے کہ سیاسی اختلاف کو اس انداز میں سنبھالے کہ نہ احتجاج کرنے والے کا جمہوری حق متاثر ہو اور نہ عام شہری اس کی زد میں آئے۔ حکومت، اپوزیشن اور متعلقہ ادارے مل کر احتجاج کے لیے ایک ضابطۂ اخلاق طے کریں، تاکہ حقِ احتجاج بھی محفوظ رہے اور عام آدمی کی روٹی بھی۔
آج کل مختلف علاقوں میں جلسوں، کارنر میٹنگز اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے لوگوں کو 27 ستمبر کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دی جا رہی ہے۔ سیاسی کارکنوں کو متحرک کرنا اور اپنے مؤقف کے لیے لوگوں کو ساتھ ملانا سیاسی عمل کا حصہ ہے، لیکن یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہی توانائی، یہی تنظیم سازی اور یہی وسائل عام آدمی کی فلاح کے لیے بھی استعمال کیے جائیں تو کیا اس کے نتائج زیادہ مثبت نہیں ہوں گے؟ کیا ریڑھی بان، دیہاڑی دار مزدور، چھوٹے دکاندار اور بے روزگار نوجوان بھی ایسی ہی منظم توجہ کے مستحق نہیں کہ ان کے لیے روزگار اور معاشی بہتری کے مواقع پیدا کیے جائیں؟ سیاسی اجتماعات کے لیے لوگوں کو متحرک کرنے کے ساتھ اگر یہی جذبہ عوام کی خوشحالی کے لیے بھی نظر آئے تو شاید عام آدمی کو احتجاج سے زیادہ اپنے مستقبل کی فکر میں امید دکھائی دے۔
جب سیاسی احتجاج کے لیے صف بندیاں، میٹنگز اور عوامی رابطہ مہم اتنے منظم انداز میں چلائی جا سکتی ہے تو پھر یہی سیاسی قیادت عوامی مفاد کے لیے بھی ایسی ہی مہم کیوں نہیں چلا سکتی؟ غریبوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ریڑھی بانوں اور دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے سہولیات فراہم کرنے، چھوٹے کاروبار کو سہارا دینے اور عام آدمی کی زندگی آسان بنانے کے لیے بھی اسی جوش و جذبے سے منصوبے اور مہمات شروع کی جا سکتی ہیں۔ آخر وہ سیاست جو عوام کے حقوق کی بات کرتی ہے، کیا وہ عوام کی معاشی خوشحالی اور بہتر مستقبل کے لیے بھی اسی شدت سے آواز نہیں اٹھا سکتی؟
سیاسی قیادت کو اپنے احتجاج اور سیاسی مؤقف کے ساتھ ساتھ اپنی زبان اور الفاظ کی ذمہ داری کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ اسٹیج یا کنٹینر سے کی جانے والی گفتگو صرف چند افراد تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرے پر اثر ڈالتی ہے۔ سکیورٹی اداروں، عدلیہ اور ریاستی اداروں کے وقار کا احترام کرتے ہوئے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر غیر ذمہ دارانہ گفتگو اور سخت زبان معاشرے میں مزید تقسیم پیدا کرتی ہے۔ سیاست کا مقصد اختلاف کو دشمنی میں بدلنا نہیں بلکہ مسائل کا حل تلاش کرنا ہونا چاہیے۔
ہمارے ہاں جب بھی کوئی بڑا سیاسی اجتماع، دھرنا یا سیاسی مہم شروع ہوتی ہے تو اس دوران بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایسے بیانات بھی سامنے آتے ہیں جو سیاسی اختلاف سے آگے بڑھ کر ریاستی اداروں اور ان کے کردار کو متنازع بنانے کا باعث بنتے ہیں۔ کبھی شہداء کی قربانیوں پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اور کبھی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کو سیاسی بحث کا موضوع بنا دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ایسے بیانات اور طرزِ گفتگو سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت اپنے مطالبات کے حصول کے بجائے ریاستی اداروں کو ہی نشانہ بنا رہی ہے۔ سیاسی قیادت کو اپنے مطالبات اور اختلافِ رائے کے لیے ضرور آواز اٹھانی چاہیے، لیکن شہداء، قومی سلامتی اور اداروں کے وقار کو سیاسی مفادات کی نذر کرنے سے گریز کرنا بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
ایک طرف ہماری سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے اس ناسور کے خاتمے اور ملک کے امن و سلامتی کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہی ہیں، ہمارے غریب محنت کش اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں، ڈاکٹرز، فلاحی ادارے اور دیگر شعبے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں، تو دوسری طرف سیاسی احتجاج اور طویل دھرنوں سے اگر معمولاتِ زندگی متاثر ہوں تو اس کا نقصان بالآخر عام شہری ہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ کاروبار، روزگار، علاج، تعلیم اور فلاحی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور ایسے حالات سے ملک دشمن عناصر اور دہشت گرد فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس لیے سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر قومی مفاد اور عوامی زندگی کو متاثر ہونے سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
پاکستان ایک خداداد مملکت ہے اور اس کی سلامتی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اختلافِ رائے اور اپنے مطالبات کے اظہار کا حق حاصل ہے، لیکن اس کے ساتھ قومی اداروں کے احترام، باہمی برداشت اور عام شہری کے حقوق کو بھی مقدم رکھنا چاہیے۔ اگر سیاسی اختلاف پُرامن، مثبت اور ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھے تو جمہوری عمل بھی مضبوط ہوگا اور معاشرے میں انتشار کے بجائے اتحاد کو فروغ ملے گا۔
احتجاج کی آواز ضرور بلند ہو، مگر اتنی بلند نہ ہو کہ اس میں عام آدمی کی فریاد سنائی دینا ہی بند ہو جائے۔
