پشاور(مہم نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (لبکا) کی کونسل کا اہم اجلاس ہوا، جس میں ہاؤسنگ اسکیمز کی ریگولیشن، غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام، ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے نظام میں بہتری اور لبکا کی استعداد کار بڑھانے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اسکیمز ریگولیشنز 2024ء میں مجوزہ ترمیم کی منظوری دے دی اور غیر منظور شدہ و غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی قانونی حیثیت کے تعین اور منظوری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے تمام غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے رجسٹریشن درخواستیں جمع کرانے کی کٹ آف تاریخ مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ مدت میں درخواست جمع نہ کرانے یا مطلوبہ تقاضے پورے نہ کرنے والی اسکیموں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ اسکیموں کو قانونی دائرے میں لانا ہاؤسنگ ریگولیشنز میں توسیع کا بنیادی مقصد ہے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے پی ڈی اے کے علاوہ تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے لیے لبکا کے تحت بلڈنگ پلانز کی منظوری کا مرکزی نظام وضع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کی انٹیگریشن یا مرکزی نظام سے متعلق دو ہفتوں میں حتمی لائحہ عمل پیش کرنے کا بھی حکم دیا۔
اجلاس میں لبکا کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 21 نئی آسامیوں کی تخلیق کی تجویز پر غور کیا گیا، جبکہ انلسٹمنٹ فیس اسٹرکچر، تجدید فیس اور یکساں ملبہ فیس سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مجوزہ انلسٹمنٹ و تجدید فیس اسٹرکچر اور یونیفارم ملبہ فیس سے اصولی اتفاق کیا گیا۔
پانچ مرلے تک کے رہائشی نقشوں کو ملبہ فیس سے استثنیٰ دینے کی تجویز پر وزیراعلیٰ نے معاملہ فنانس کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں لبکا اور ٹی ایم ایز کے درمیان موجودہ ریونیو شیئرنگ فارمولا برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ فارمولے کے تحت لبکا کا حصہ 25 فیصد جبکہ ٹی ایم ایز کا حصہ 75 فیصد ہے۔
کونسل نے لبکا کے نظرثانی شدہ بجٹ برائے سال 2025-26ء اور تخمینہ بجٹ برائے سال 2026-27ء کی بھی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ نے کونسل کے تحت فنانس کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جو مالی اثرات کے حامل معاملات پر حتمی سفارشات پیش کرے گی۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کا تدارک، پائیدار ترقی اور ٹی ایم ایز کو مضبوط بنانا بیک وقت ضروری ہے۔مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے متعلقہ قوانین کا مؤثر نفاذ اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
