آئینی و جمہوری حق کے تحت پرامن احتجاج کریں گے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا!
پشاور(مہم نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور عوام آئینی و جمہوری حق کے تحت پرامن احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران کسی کو اشتعال انگیزی یا نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ ٹی وی پر بیانات کے ذریعے عوام کی توجہ لانگ مارچ اور حکومت کی کارکردگی سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے اور 4 اکتوبر کو بڑی تعداد میں لوگ نکلیں گے۔
سہیل آفریدی نے ملکی معیشت کے حوالے سے کہا کہ ان کے مطابق سابق حکومت کے دور میں ملکی شرح نمو 6.1 فیصد تھی جو موجودہ دور میں 2.3 فیصد تک آ گئی ہے، جبکہ ملک کا مجموعی قرضہ 43 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 99 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
انہوں نے غربت، مہنگائی، برآمدات اور نوجوانوں کی بیرون ملک روانگی کو بھی ملک کے اہم مسائل قرار دیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مظاہرے میں شرپسندی یا نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے کسی شخص کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اسے پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ پرامن ہوگا اور سیاسی جدوجہد آئینی دائرے میں جاری رکھی جائے گی۔
خیبرپختونخوا کی مالی پوزیشن بہتر ہوئی، مشیر خزانہمشیر خزانہ مزمل اسلم نے پریس کانفرنس میں صوبے کی معاشی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی کارکردگی کا جائزہ سیاسی بیانات کے بجائے اعدادوشمار، بجٹ دستاویزات اور معتبر قومی و عالمی اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جون 2026 تک پاکستان کا مجموعی قرضہ 99.5 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کا مجموعی قرضہ 809 ارب روپے ہے اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے قائم اکاؤنٹ میں تقریباً 250 ارب روپے موجود ہیں۔
مزمل اسلم کے مطابق صوبائی حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں اضافہ کیا، صحت کارڈ بحال کیا اور صحت و تعلیم کے لیے بجٹ کا نمایاں حصہ مختص کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے کا پولیس بجٹ بھی گزشتہ تین سالوں میں 65 ارب روپے سے بڑھ کر 191 ارب روپے ہو گیا ہے۔
مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کو درپیش امن و امان کے چیلنجز کے باوجود صوبائی حکومت نے مالی نظم و نسق بہتر بنانے اور ترقیاتی و سماجی شعبوں کے لیے وسائل بڑھانے پر توجہ دی ہے۔
