تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں، عسکری کارروائیوں اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ہے، لیکن تازہ فضائی حملوں نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
یکم اکتوبر 2026 کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ہلمند میں مبینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں 22 مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر بھی تباہ کیے گئے۔
دوسری جانب افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستانی کارروائی کو مختلف انداز میں پیش کیا ہے۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق پاکستانی طیاروں نے کنڑ اور ہلمند میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت نو شہری ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے۔ ان دعوؤں میں سے کسی بھی فریق کے اعداد و شمار کی مکمل آزادانہ تصدیق فوری طور پر نہیں ہو سکی۔
اقوام متحدہ کے افغانستان مشن نے بھی سرحد پار تشدد پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ حملوں میں کم از کم دس شہری ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے تھے، جبکہ نو افراد زخمی ہوئے۔ مشن نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کریں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور شہریوں کو مزید نقصان سے بچائیں۔
یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع صرف ایک واقعے تک محدود نہیں رہا۔ گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان میں حملے کرنے والے عسکریت پسند افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔
پاکستان بالخصوص تحریک طالبان پاکستان، یعنی ٹی ٹی پی، کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرتے ہیں اور کابل ان عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کر رہا۔
افغان طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ کابل کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور پاکستان کو اپنے مسائل کا حل افغانستان پر الزام عائد کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنا چاہیے۔
اصل مسئلہ یہی ہے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان اعتماد تقریباً ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان کسی حملے کے بعد افغانستان میں موجود مبینہ عسکریت پسندوں کو ذمہ دار قرار دیتا ہے، جبکہ افغانستان پاکستانی فوجی کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔
ایسی صورتحال میں ہر نیا حملہ پچھلے واقعے کا ردعمل بن سکتا ہے۔ اگر پاکستان افغانستان میں کارروائی کرتا ہے اور کابل اسے جارحیت سمجھتا ہے تو افغان طالبان کی جانب سے سرحدی سطح پر جوابی کارروائی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس کے بعد پاکستان دوبارہ اپنے سرحدی علاقوں میں فوجی کارروائی کر سکتا ہے، یوں ایک ایسا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جس میں ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاعی قدم اور دوسرے فریق کی کارروائی کو اشتعال انگیزی قرار دے۔
گزشتہ دنوں کی صورتحال بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی اچانک شروع نہیں ہوئی۔ ستمبر میں تقریباً تین ماہ کی نسبتاً خاموشی کے بعد سرحدی کشیدگی دوبارہ بڑھی اور پاکستان نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں کیں۔
اس کشیدگی کے پیچھے صرف سرحدی جھڑپیں نہیں بلکہ عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی، سرحد پار حملے، باہمی الزامات اور افغانستان کے اندر مختلف مسلح گروہوں کی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ یہی پیچیدہ صورتحال کسی بھی عارضی جنگ بندی کو دیرپا امن میں تبدیل ہونے سے روک سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اپنی سرزمین پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کو روکنا ہے۔ اگر افغانستان میں موجود کسی گروہ کی جانب سے پاکستان کے اندر حملوں کا خطرہ برقرار رہتا ہے تو اسلام آباد پر اپنے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے کارروائی کا دباؤ بھی موجود رہے گا۔
لیکن دوسری طرف افغانستان میں شہری آبادی پر کسی بھی فوجی کارروائی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات خاص طور پر عوامی جذبات کو متاثر کرتی ہیں اور حکومتوں کے لیے مذاکرات کی طرف واپس آنا زیادہ مشکل بنا دیتی ہیں۔
اس مسئلے کا ایک اور خطرناک پہلو سرحدی علاقوں میں رہنے والی عام آبادی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی طویل سرحد کے دونوں جانب ایسے خاندان اور قبائل موجود ہیں جن کے سماجی اور معاشی تعلقات سرحدی لکیر سے کہیں زیادہ پرانے ہیں۔
اگر مسلسل جھڑپیں جاری رہیں تو سب سے زیادہ متاثر یہی عام لوگ ہو سکتے ہیں۔ کاروبار، آمدورفت، روزگار اور خاندانوں کے باہمی روابط متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقوں میں خوف اور بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ماضی میں بھی شدید کشیدگی پیدا ہوئی، لیکن مختلف مواقع پر مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے حالات کو قابو میں لانے کی کوشش کی گئی۔ رواں سال بھی فریقین کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ہوئی تھیں، مگر بنیادی اختلافات برقرار رہے۔
اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ صرف عارضی جنگ بندی کافی نہیں ہوگی۔ اگر دونوں ممالک واقعی مستقل امن چاہتے ہیں تو انہیں ان بنیادی سوالات کا جواب تلاش کرنا ہوگا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی مبینہ عسکری سرگرمیوں کو کس طرح روکا جائے اور پاکستان کی جانب سے سرحد پار کارروائیوں کو کیسے محدود کیا جائے۔
مذاکرات اس معاملے میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ایک فریق صرف فوجی طاقت کو حل سمجھتا رہے اور دوسرا ہر فوجی کارروائی کے جواب میں مزاحمت کو ضروری سمجھے تو کشیدگی ختم ہونے کے بجائے مزید گہری ہو سکتی ہے۔
اس صورتحال میں چین اور دیگر علاقائی ممالک بھی سفارتی سطح پر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی بیرونی ثالثی کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں ہوئی ہیں، اس لیے مستقبل میں بھی سفارتی رابطوں کو فعال رکھنے کی ضرورت موجود ہے۔
تاہم مذاکرات اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب دونوں جانب سے ایک دوسرے کے بنیادی خدشات کو سنجیدگی سے سمجھا جائے۔ پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو نظر انداز کرنا مسئلے کا حل نہیں، جبکہ افغانستان کی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے کو نظر انداز کرنا بھی کشیدگی کم نہیں کرے گا۔
کیا یہ کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے؟ موجودہ حالات میں اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً اگر پاکستان میں مزید بڑے حملے ہوں، افغانستان میں مزید فضائی کارروائیاں کی جائیں یا سرحد پر جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہو جائے۔ حالیہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال انتہائی حساس ہے۔
تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ موجودہ صورتحال کو لازماً ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھتے ہوئے مرحلے کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرحدی روابط، علاقائی سلامتی اور لاکھوں لوگوں کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے طویل جنگ دونوں طرف کے عوام کے لیے انتہائی بھاری قیمت کا باعث بن سکتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ الزام تراشی اور جوابی کارروائیوں کے بجائے قابل اعتماد مذاکرات کا راستہ دوبارہ کھولا جائے۔ سرحد پار عسکریت پسندی کے مسئلے پر قابل عمل طریقہ کار، انٹیلی جنس تعاون، سرحدی رابطوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے واضح اصول وضع کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان دونوں کے عوام کئی دہائیوں سے جنگ اور بدامنی کے اثرات برداشت کرتے آئے ہیں۔ ایک بار پھر اگر کشیدگی نے بڑے تصادم کی شکل اختیار کی تو اس کا نقصان صرف حکومتوں یا عسکری قوتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سرحد کے دونوں جانب عام خاندان، بچے، تاجر اور مزدور بھی اس کی قیمت ادا کریں گے۔
موجودہ صورتحال کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسئلہ صرف سرحد پر فوجی طاقت سے حل نہیں ہوگا۔ جب تک عسکریت پسندی، سرحدی سلامتی، خودمختاری اور باہمی اعتماد جیسے بنیادی معاملات پر سیاسی اور سفارتی حل تلاش نہیں کیا جاتا، ہر نئی جھڑپ آئندہ کسی بڑے بحران کی بنیاد بن سکتی ہے۔
اب آنے والے دن انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر دونوں جانب سے تحمل کا مظاہرہ کیا گیا اور سفارتی رابطے بحال ہوئے تو موجودہ کشیدگی کو محدود کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود خلیج مزید گہری ہونے کا خطرہ برقرار رہے گا۔

