خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج؛ امن کا راستہ یا ایک نئے سیاسی امتحان کا آغاز؟
تحریر: آسیہ خٹک
خیبر پختونخوا ایک بار پھر ملکی سیاست کے ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں فیصلے صرف اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کے اثرات عام شہری، تاجر، مزدور، سرکاری ملازم، طلبہ اور ان خاندانوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں جو پہلے ہی بدامنی، مہنگائی اور غیر یقینی صورتِ حال کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔
صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے سیاسی بحث کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ یہ فیصلہ کیوں کیا گیا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے بعد صوبے کا نظام کس سمت جائے گا اور اس کی قیمت عام آدمی کو تو نہیں چکانا پڑے گی؟
خیبر پختونخوا کی صورتِ حال کو محض حکومت اور اپوزیشن کی کشمکش سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ صوبہ ہے جس کے متعدد علاقے برسوں سے دہشت گردی، بدامنی، نقل مکانی اور معاشی مشکلات کے اثرات برداشت کرتے آئے ہیں۔ یہاں کے شہری امن چاہتے ہیں، روزگار چاہتے ہیں، بچوں کے لیے محفوظ مستقبل چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ان کی روزمرہ زندگی سیاسی محاذ آرائی کی نذر نہ ہو۔ دوسری طرف صوبے کی منتخب حکومت اور وفاق کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے انتظامی معاملات کو بھی سیاسی بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔
ایمرجنسی کے فیصلے تک نوبت کیوں پہنچی؟
وفاقی حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال اور دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملات کو اپنے فیصلے کی بنیاد بنایا ہے۔ اس سے پہلے بھی وفاقی وزرا اور خیبر پختونخوا کے گورنر کی ملاقاتوں میں امن و امان، سیاسی کشیدگی اور ممکنہ لانگ مارچ کے انتظامات زیرِ بحث آتے رہے۔ اکتوبر کے ابتدائی دنوں میں گورنر ہاؤس سے سامنے آنے والے مؤقف میں بھی کہا گیا تھا کہ ضرورت پڑنے پر آئینی کردار ادا کیا جائے گا۔
11 اکتوبر کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق صدرِ مملکت نے وفاقی کابینہ کی سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی۔ اس فیصلے کے لیے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کا حوالہ دیا گیا ہے۔ وفاقی مؤقف یہ ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات ضروری ہو گئے تھے۔
تاہم اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان تحریک انصاف نے اس اقدام کو غیر قانونی اور صوبے کے عوامی مینڈیٹ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اعتراض کیا ہے۔ اس لیے یہ معاملہ اب صرف انتظامی اختیار کا نہیں بلکہ آئینی تشریح، منتخب حکومت کے اختیار اور وفاق و صوبے کے تعلقات کا بھی بن گیا ہے۔
کسی بھی فیصلے کی اصل اہمیت اس کے اعلان سے نہیں بلکہ اس کے نتائج سے سامنے آتی ہے۔ اگر مقصد امن قائم کرنا ہے تو عوام یہ جاننا چاہیں گے کہ اس مقصد کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے، ان کی نگرانی کون کرے گا اور عام شہری کو اس سے کیا فرق محسوس ہوگا۔
گورنر راج کا مطلب عام شہری کے لیے کیا ہے؟
سیاسی اصطلاحات اکثر عام آدمی کے لیے مشکل ہوتی ہیں، لیکن ان کے اثرات اس کی زندگی پر براہِ راست پڑ سکتے ہیں۔ گورنر راج کے تحت صوبائی حکومت کے بعض یا تمام انتظامی اختیارات آئینی اعلان کی شرائط کے مطابق گورنر یا وفاقی سطح پر منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صوبے کے ہر ادارے کا کام لازماً رک جائے گا، لیکن انتظامی فیصلوں کا مرکز اور طریقۂ کار بدل سکتا ہے۔
اس تبدیلی کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ پولیس، ضلعی انتظامیہ، صحت، تعلیم، بلدیاتی امور اور ترقیاتی منصوبوں کو کس طرح چلایا جاتا ہے۔ شہریوں کو تھانوں میں انصاف کے لیے جانا ہے، مریضوں کو ہسپتالوں میں علاج چاہیے، طلبہ کو تعلیمی تسلسل درکار ہے اور تاجروں کو ایسا ماحول چاہیے جس میں وہ اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔
اگر انتظامی تبدیلیوں کے باوجود ان خدمات میں بہتری آتی ہے، امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہوتی ہے اور شہریوں کو تحفظ محسوس ہوتا ہے تو حکومت اپنے فیصلے کے عملی نتائج دکھا سکے گی۔ لیکن اگر سیاسی تنازع بڑھتا ہے، افسر شاہی غیر یقینی کا شکار ہوتی ہے یا عوامی خدمات متاثر ہوتی ہیں تو اس فیصلے پر سوالات بھی بڑھیں گے۔
کیا اس سے دہشت گردی پر قابو پایا جا سکے گا؟
یہ اس پورے معاملے کا سب سے اہم سوال ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے امن کسی سیاسی جماعت کا نعرہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے واقعات سے متاثرہ خاندان جانتے ہیں کہ خوف کے ماحول میں کاروبار، تعلیم، صحت اور معمولاتِ زندگی کتنے مشکل ہو جاتے ہیں۔
تاہم دہشت گردی کا مقابلہ صرف انتظامی اختیارات تبدیل کرنے سے ممکن نہیں۔اس کے لیے قابلِ اعتماد انٹیلی جنس، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد، سرحدی و علاقائی سلامتی، مقامی آبادی کا تعاون، مؤثر عدالتی کارروائی اور متاثرہ علاقوں کی معاشی بحالی بھی ضروری ہے۔
اگر ایمرجنسی کے نتیجے میں اداروں کے درمیان رابطہ بہتر ہوتا ہے، کارروائیوں کی نگرانی مؤثر بنتی ہے اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاتا ہے تو اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔لیکن اگر ساری توجہ سیاسی اختلافات اور انتظامی عہدوں کی تبدیلی پر مرکوز رہی تو دہشت گردی جیسے پیچیدہ مسئلے کا حل پھر بھی ادھورا رہ سکتا ہے۔
امن قائم کرنے کے لیے ریاستی اختیار ضروری ہے، مگر اس اختیار کے ساتھ جواب دہی، قانون کی پابندی اور عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
سیاسی کشیدگی کے اثرات کہاں تک جا سکتے ہیں؟
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی اختلاف مزید گہرا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔پاکستان تحریک انصاف اسے اپنے سیاسی مینڈیٹ کے خلاف اقدام قرار دے رہی ہے، جبکہ وفاقی حکومت اسے امن و امان کے تناظر میں ضروری قدم سمجھتی ہے۔ان متضاد مؤقفوں کے درمیان اصل امتحان یہ ہوگا کہ اختلاف آئینی اور سیاسی حدود کے اندر رہتا ہے یا سڑکوں پر تصادم کی صورت اختیار کرتا ہے۔
اگر احتجاج بڑھتے ہیں، سیاسی کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوتی ہے یا وفاقی و صوبائی سطح پر محاذ آرائی شدت اختیار کرتی ہے تو اس کا اثر کاروباری سرگرمیوں، ٹرانسپورٹ، تعلیمی اداروں اور عام شہریوں کی نقل و حرکت پر پڑ سکتا ہے۔ سیاسی غیر یقینی سرمایہ کاری اور روزگار کے فیصلوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری طرف اگر تمام متعلقہ فریق آئینی طریقۂ کار، پارلیمانی نگرانی اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات کم کرنے کی کوشش کریں تو کشیدگی کو محدود رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ کسی بھی فریق کے لیے یہ دعویٰ کرنا کافی نہیں کہ وہ عوام کے مفاد میں قدم اٹھا رہا ہے؛ اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ اس کے اقدامات سے عوام کو کیا فائدہ پہنچتا ہے۔
آئین کیا کہتا ہے اور آگے کیا ہو سکتا ہے؟
ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملات میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 اہم ہیں، لیکن دونوں کی قانونی بنیاد اور طریقۂ کار ایک جیسے نہیں۔آرٹیکل 232 جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی کے اعلان سے متعلق ہے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو۔ آئین میں اس حوالے سے صوبائی اسمبلی کی قرارداد اور پارلیمانی منظوری سے متعلق شرائط بھی درج ہیں۔
آرٹیکل 234 اس صورتِ حال سے متعلق ہے جب صوبے میں آئینی نظام کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہ رہنے کا معاملہ سامنے آئے۔اس کے تحت جاری اعلان کے لیے بھی پارلیمانی نگرانی اور مدت سے متعلق آئینی شرائط موجود ہیں۔
اب ضروری ہوگا کہ نافذ کیے گئے اقدامات کی مکمل قانونی بنیاد، دائرۂ اختیار، مدت اور پارلیمانی کارروائی واضح طور پر سامنے آئے۔اگر فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جاتا ہے تو اس کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات عدالتی فورم پر بھی زیرِ غور آ سکتے ہیں۔اس مرحلے پر کسی حتمی عدالتی نتیجے کا دعویٰ کرنا درست نہیں ہوگا؛ اصل صورتِ حال متعلقہ آئینی کارروائی اور فیصلوں سے واضح ہوگی۔
آگے چل کر تین امکانات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ پہلا یہ کہ انتظامی اقدامات کے نتیجے میں امن و امان بہتر ہو اور سیاسی کشیدگی میں کمی آئے۔ دوسرا یہ کہ وفاق اور صوبے کے درمیان اختلاف مزید بڑھے اور احتجاجی سیاست شدت اختیار کرے۔تیسرا یہ کہ سیاسی مذاکرات، پارلیمانی عمل یا عدالتی کارروائی کے ذریعے موجودہ صورتِ حال میں کوئی تبدیلی سامنے آئے۔ ان میں سے کون سا راستہ اختیار ہوتا ہے، اس کا انحصار آنے والے دنوں کے فیصلوں اور تمام فریقوں کے طرزِ عمل پر ہوگا۔
عوام کو سیاسی کشمکش نہیں، عملی نتائج چاہییں
اس تمام صورتِ حال میں سب سے اہم کردار عام شہری کا ہے، اگرچہ فیصلے کرنے والے ایوانوں میں اس کی آواز اکثر کم سنائی دیتی ہے۔ ایک مزدور کو اس بات سے فرق پڑتا ہے کہ اس کا روزگار جاری رہتا ہے یا نہیں۔ایک والدین کو فکر ہوتی ہے کہ بچے محفوظ طریقے سے اسکول جا سکیں گے یا نہیں۔ ایک تاجر یہ جاننا چاہتا ہے کہ بازار کھلے رہیں گے یا سیاسی کشیدگی کے باعث اس کا کاروبار متاثر ہوگا۔ دہشت گردی سے متاثرہ خاندان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اب اس کے علاقے میں واقعی امن آئے گا؟
یہی وہ سوالات ہیں جن کے جواب کسی بھی غیر معمولی آئینی اقدام کی کامیابی یا ناکامی کو جانچنے میں مدد دیں گے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو واضح معلومات فراہم کرے، قانون کے مطابق کارروائی کرے اور عوامی خدمات کے تسلسل کو یقینی بنائے۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اختلافات کو آئینی اور پُرامن راستوں کے ذریعے آگے بڑھائیں۔ پارلیمان اور عدالتی اداروں کا کردار بھی اس لیے اہم ہے کہ اختیارات کے استعمال کے ساتھ آئینی نگرانی اور جواب دہی برقرار رہے۔
خیبر پختونخوا کے عوام پہلے ہی بہت سے مشکل حالات دیکھ چکے ہیں۔ انہیں ایک اور طویل سیاسی بحران کی ضرورت نہیں، بلکہ ایسے اقدامات درکار ہیں جن سے ان کی زندگی میں تحفظ، روزگار اور استحکام آئے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ سیاسی طور پر کس فریق کو فائدہ ہوگا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے عام شہری کو کیا ملے گا۔ اگر ایمرجنسی اور گورنر راج کے نتیجے میں امن، قانون کی حکمرانی اور عوامی خدمات میں حقیقی بہتری آتی ہے تو اس کا اثر لوگوں کی زندگیوں میں دکھائی دینا چاہیے۔ اور اگر سیاسی کشیدگی بڑھے یا عوامی مسائل پسِ پشت چلے جائیں تو اس پر سوال اٹھانا بھی شہریوں کا حق ہے۔
ریاست کی مضبوطی صرف اختیار کے استعمال میں نہیں، بلکہ اس اعتماد میں بھی ہوتی ہے جو شہری اپنے اداروں پر کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے لیے آج سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ امن کے نام پر ہونے والے فیصلوں کے ساتھ امن کے قابلِ پیمائش نتائج بھی سامنے آئیں، آئین کی حدود برقرار رہیں اور سیاست کی لڑائی میں عام آدمی کی زندگی مزید مشکل نہ ہو۔

