تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com) (بریڈفورڈ، انگلینڈ)
ذرا تصور کریں کہ آپ ایک ایسی فارمیسی میں داخل ہوں جہاں ادویات ترتیب دینے والا، سامان اٹھانے والا اور اسٹور روم سے مطلوبہ چیز لانے والا انسان نہیں بلکہ ایک انسان نما روبوٹ ہو۔یا ایک ایسے گودام کا تصور کریں جہاں درجنوں ذہین مشینیں بغیر تھکے مسلسل کام کر رہی ہوں، راستہ خود تلاش کر رہی ہوں اور بدلتے حالات کے مطابق اپنے فیصلے کر رہی ہوں۔
یہ اب کسی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں، بلکہ حقیقی دنیا تیزی سے اسی سمت بڑھ رہی ہے۔انسان نما روبوٹ اب صرف تجربہ گاہوں میں کھڑے دکھائی دینے والے نمونے نہیں رہے۔ گال بوٹ جی ون جیسے روبوٹس کو حقیقی دنیا کے کاموں کے لیے تربیت دی جا رہی ہے، جہاں انہیں اشیا اٹھانے، منتقل کرنے، ترتیب دینے اور مختلف ماحول میں عملی ذمہ داریاں انجام دینے کے قابل بنایا جارہا ہے۔
اصل حیرت صرف روبوٹ کا چلنا پھرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ مسلسل مشق کے ذریعے نئے کام سیکھنے کے قابل ہو رہے ہیں۔یہ تبدیلی اتنی تیزی سے کیوں آرہی ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کا وہ امتزاج ہے جسے اب جسمانی مصنوعی ذہانت کہا جارہا ہے۔ یعنی ایسی مصنوعی ذہانت جو صرف اسکرین پر جواب نہیں دیتی بلکہ حقیقی دنیا کو دیکھتی، سمجھتی، اس میں حرکت کرتی اور اپنے جسم کے ذریعے کام انجام دیتی ہے۔
روایتی روبوٹ عموماً ایک مخصوص کام کے لیے بنائے جاتے تھے، لیکن نئی نسل کے روبوٹس کو زیادہ عمومی صلاحیتیں دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وہ مختلف اشیا کو پہچان سکتے ہیں، ماحول کا جائزہ لے سکتے ہیں، ہدایات سمجھ سکتے ہیں اور حالات کے مطابق اپنی حرکت تبدیل کرسکتے ہیں۔
اس ترقی کا ایک اہم راز مجازی تربیت ہے۔ جدید کمپیوٹنگ نظام روبوٹ کے لیے ایسی مصنوعی دنیا بنا سکتے ہیں جہاں وہ حقیقی دنیا میں جانے سے پہلے بے شمار مرتبہ مختلف کاموں کی مشق کرتے ہیں۔ یوں روبوٹ چند گھنٹوں یا دنوں میں ایسی تربیت حاصل کرسکتا ہے جس کے لیے حقیقی ماحول میں کئی گنا زیادہ وقت درکار ہوتا۔این ویڈیا کے آئیزک جم اور جی آر او او ٹی جیسے نظام اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ان مجازی ماحول میں روبوٹ چلنے، چیز پکڑنے، راستہ تلاش کرنے، رکاوٹوں سے بچنے اور مختلف کام مکمل کرنے کی مشق کرسکتے ہیں۔مجازی دنیا میں ناکامی بھی سیکھنے کا ایک ذریعہ بن جاتی ہے۔
اگر روبوٹ کوئی چیز غلط انداز میں پکڑ لے یا کسی رکاوٹ سے ٹکرا جائے تو حقیقی دنیا کی طرح نقصان نہیں ہوتا۔ وہ دوبارہ کوشش کرتا ہے، اپنی حرکت تبدیل کرتا ہے اور بہتر طریقہ سیکھتا ہے۔ اسی عمل کو بے شمار مرتبہ دہرانا روبوٹ کی تربیت کو غیر معمولی رفتار دے سکتا ہے۔اسی لیے جسمانی مصنوعی ذہانت کی ترقی آج پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز دکھائی دے رہی ہے۔ طاقتور کمپیوٹر، جدید سینسرز، کیمرے، مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اور مجازی تربیتی نظام ایک ساتھ مل کر روبوٹکس کی دنیا کو تیزی سے بدل رہے ہیں۔
نیورا روبوٹکس کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ ریگر بھی جسمانی مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور مستقبل میں جسمانی کام کی بدلتی ہوئی نوعیت پر بات کرچکے ہیں۔ ان خیالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ روبوٹ اب صرف کارخانوں کی مشینیں نہیں رہیں گے بلکہ روزمرہ زندگی کے کئی ایسے شعبوں میں داخل ہوسکتے ہیں جہاں آج انسان کام کرتے ہیں۔فارمیسی اس تبدیلی کی ایک مثال ہوسکتی ہے۔ روبوٹ ادویات کو ترتیب دینے، سامان منتقل کرنے، اسٹاک کی نگرانی اور دیگر معاون کاموں میں مدد کرسکتے ہیں۔
اس طرح انسانی کارکن اپنا وقت ایسے کاموں پر زیادہ صرف کرسکتے ہیں جن میں تجربہ، فیصلہ سازی اور مریضوں یا صارفین سے براہ راست رابطہ ضروری ہوتا ہے۔کارخانوں میں بھی روبوٹ کا کردار مزید وسیع ہوسکتا ہے۔ بھاری سامان اٹھانا، بار بار ایک ہی حرکت کرنا یا خطرناک ماحول میں کام کرنا ایسے شعبے ہیں جہاں روبوٹ انسانی کارکنوں کی مدد کرسکتے ہیں۔ اس سے بعض خطرناک کاموں میں انسانوں کے براہ راست داخل ہونے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔
گوداموں میں بھی یہ تبدیلی نمایاں ہوسکتی ہے۔ ذہین روبوٹ سامان تلاش کرنے، اٹھانے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ بدلتے ہوئے ماحول میں راستہ بھی تلاش کرسکتے ہیں۔ اگر ایک ہی روبوٹ کئی مختلف کام کرسکے تو کاروباری اداروں کے لیے خودکاری کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔دکانیں بھی اس تبدیلی سے باہر نہیں رہی گی۔ مستقبل میں روبوٹ اسٹاک ترتیب دینے، سامان منتقل کرنے اور دکان کے مختلف معاون کام انجام دینے میں استعمال ہوسکتے ہیں۔ تاہم صارف سے بات چیت، اعتماد قائم کرنا اور پیچیدہ انسانی معاملات میں فیصلہ کرنا اب بھی انسانی کردار کو اہم رکھ سکتا ہے۔
لیکن یہاں ایک بہت بڑا سوال سامنے آتا ہے. اگر روبوٹ یہ سب کام کرسکتے ہیں تو انسانوں کا کیا ہوگا؟ یہی وہ سوال ہے جس پر آنے والے برسوں میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ بحث ہونے کا امکان ہے۔فارمیسی کارکنوں سے لے کر فیکٹری ملازمین، گودام کے عملے، ترسیلی کارکنوں اور سیلز کے شعبے سے وابستہ افراد تک، بہت سے جسمانی کام ٹیکنالوجی کی وجہ سے تبدیل ہوسکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر ملازمت مکمل طور پر ختم ہوجائے، لیکن اس ملازمت کو انجام دینے کا طریقہ ضرور بدل سکتا ہے۔
دوسری طرف نئی ٹیکنالوجی نئی ملازمتیں بھی پیدا کرسکتی ہے۔ روبوٹ کو چلانے، تربیت دینے، ان کی نگرانی کرنے، خرابی دور کرنے، سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے اور ان کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ایسے افراد درکار ہوں گے جو مشین اور انسان دونوں کو سمجھتے ہوں۔پاکستان کے لیے یہ سوال مزید اہم ہوجاتا ہے۔ ملک کی بڑی افرادی قوت صنعت، گوداموں، دکانوں، ترسیل، تعمیرات اور دیگر جسمانی شعبوں سے وابستہ ہے۔
اگر دنیا میں خودکار مشینوں کا استعمال تیزی سے بڑھتا ہے تو پاکستانی کارکنوں کو بھی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق نئی مہارتیں حاصل کرنا ہوں گی۔خاص طور پر نوجوانوں کے لیے مستقبل کا راستہ صرف یہ نہیں کہ وہ روبوٹ سے مقابلہ کریں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ روبوٹ کو استعمال کرنا سیکھیں۔ جو شخص ذہین مشین کو چلانا، اس کی کارکردگی جانچنا اور اسے درست طریقے سے ہدایات دینا جانتا ہوگا، اس کی مہارت آنے والے وقت میں زیادہ اہم ہوسکتی ہے۔
ایک عام گودام کارکن کی مثال لیجیے۔ آج وہ سامان اٹھانے اور منتقل کرنے کا کام کرتا ہے، لیکن کل وہی شخص روبوٹک نظام کی نگرانی، مشینوں کی بنیادی دیکھ بھال یا خودکار گودام کے انتظام کی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے۔ اس تبدیلی کے لیے بنیادی تعلیم کے ساتھ عملی اور تکنیکی تربیت ضروری ہوگی۔تعلیمی اور فنی اداروں کو بھی اس تبدیلی کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، سینسرز، مشین مینٹیننس اور صنعتی سافٹ ویئر جیسے شعبوں میں تربیت نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔
لیکن اگر ٹیکنالوجی بہت تیزی سے آگے بڑھے اور انسانی مہارتیں اسی رفتار سے نہ بڑھ سکیں تو معاشرے میں معاشی فرق بھی بڑھ سکتا ہے۔ کچھ لوگ نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں گے جبکہ وہ افراد جو نئی مہارتیں حاصل نہیں کرپائیں گے، ان کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوسکتے ہیں۔اسی لیے مستقبل کی اصل تیاری صرف روبوٹ خریدنے میں نہیں بلکہ انسانوں کو تیار کرنے میں ہے۔ حکومتوں، کاروباری اداروں اور تعلیمی اداروں کو ایسے تربیتی نظام بنانے ہوں گے جو کارکنوں کو نئی مشینوں کے ساتھ کام کرنے کے قابل بنائیں۔
شاید آنے والے دور کا کامیاب کارکن وہ نہیں ہوگا جو روبوٹ سے زیادہ طاقتور ہو، بلکہ وہ ہوگا جو روبوٹ کو بہتر انداز میں استعمال کرنا جانتا ہو۔ انسانی تخلیقی صلاحیت، فیصلہ سازی، رابطے کی مہارت، اخلاقی سمجھ اور پیچیدہ حالات کو سمجھنے کی صلاحیت اب بھی انتہائی اہم رہ سکتی ہے۔
دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہورہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت صرف کمپیوٹر اسکرین کے اندر محدود نہیں رہے گی بلکہ روبوٹس کے جسم کے ذریعے حقیقی دنیا میں حرکت کرے گی۔ مستقبل شاید انسان بمقابلہ روبوٹ کی جنگ نہ ہو، بلکہ انسان اور مشین کے درمیان ایک نئے تعاون کا دور ہو۔ اصل کامیابی ان لوگوں کے ہاتھ میں ہوسکتی ہے جو ذہین مشینوں کو سمجھیں گے، انہیں سکھائیں گے، ان پر قابو رکھیں گے اور ان کی طاقت کو انسانی ضرورت کے مطابق استعمال کرنا جانیں گے۔

