سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز لاہور کے زیرِ اہتمام سیمینار
لاہور(مہم نیوز)سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (کیس) لاہور کے زیرِ اہتمام ’’پاکستان کی آبادی میں اضافے کا انتظام: آبادیاتی دباؤ، شہری پھیلاؤ اور انسانی سلامتی کے چیلنجز کا جائزہ‘‘ کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا، جس میں ماہرینِ تعلیم، پالیسی سازوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے دانشوروں نے پاکستان میں تیزی سے بڑھتی آبادی، شہری پھیلاؤ اور انسانی سلامتی پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا۔
21 اکتوبر 2026 کو منعقدہ سیمینار کے افتتاحی کلمات کیس لاہور کے ڈائریکٹر ایئر مارشل عرفان احمد (ریٹائرڈ) نے پیش کیے۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ آبادی میں اضافے سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر پالیسیاں، اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
پاپولیشن سینٹر پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر منہاج الحق نے ’’پاکستان کے آبادیاتی رجحانات اور آبادی میں اضافہ: ملک کے لیے تزویراتی مضمرات‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیزی سے بڑھتی آبادی عوامی خدمات، قدرتی وسائل اور سماجی و معاشی ترقی پر دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی، بچیوں کی تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے، صحت کی سہولیات اور ہنر مندی کے فروغ کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق پائیدار مستقبل کے لیے تعلیم، روزگار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے متعلق جامع پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
ایس ڈی پی آئی اسلام آباد کی سینئر پالیسی ایڈوائزر اور سینٹر فار ہیلتھ پالیسی انوویشن (سی ایچ پی آئی) کی سربراہ ڈاکٹر رضیہ صفدر نے ’’آبادی میں اضافہ، شہری پھیلاؤ اور انسانی سلامتی: پاکستان کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجز‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، شہروں کی بے ہنگم توسیع اور موسمیاتی تبدیلی صحت کے نظام اور بنیادی وسائل پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے صحت کے شعبے کے لیے مناسب مالی وسائل، آبادی کے مربوط انتظام اور خواتین کی بااختیاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ’’ون ہیلتھ‘‘ کے تصور کو اپنانے پر زور دیا، جس کے تحت انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کو باہم مربوط سمجھا جاتا ہے۔
وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے تحت پلاننگ کمیشن کی رکن (آبادی) ڈاکٹر شبانہ حیدر نے ’’مستحکم پاکستان کی تعمیر: آبادی کے انتظام اور پائیدار شہری ترقی کا لائحہ عمل‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیزی سے بڑھتی آبادی اور شہری پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے صحت، تعلیم، ہنر مندی اور خواتین کی معاشی شمولیت میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ انہوں نے آبادی کے مربوط انتظام، بہتر طرزِ حکمرانی، اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور پائیدار شہری منصوبہ بندی پر زور دیا تاکہ آبادیاتی دباؤ کو ترقی کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکے۔
سیمینار کے اختتام پر کیس لاہور کے صدر ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ) نے کہا کہ پاکستان میں آبادی کے تیز رفتار اضافے کو قومی سطح کی تزویراتی ترجیح کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد آبادی سے متعلق امور میں صوبوں کا کردار اہم ہو گیا ہے، اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ضروری ہے۔
ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ) کے مطابق آبادیاتی تبدیلیوں کا انتظام ایک قومی تقاضا ہے، جس کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل محض آبادی کی تعداد پر نہیں بلکہ اس کی پیداواری صلاحیت اور انسانی سرمائے کی مؤثر ترقی پر منحصر ہے۔
سیمینار کا اختتام سوال و جواب کی نشست پر ہوا، جس میں خواتین کی تعلیم، انسانی سرمائے کی ترقی، آبادی میں اضافے، حکومتی اقدامات اور ان پر عملدرآمد کے طریقۂ کار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

