وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے مطالبات کا ڈرافٹ سوشل میڈیا پر جاری کردیا گیا ہے، اگر ایک بھی نکتہ غیر قانونی یا غیر آئینی ثابت ہوا تو لانگ مارچ منسوخ کردوں گا۔
کوہاٹ:سہیل آفریدی نے کہا کہ تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کرنے کے بعد پرامن احتجاج کا راستہ اپنایا گیا ہے۔
کوہاٹ کے یونیورسٹی چوک میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کوہاٹ کے عوام کے جذبے اور استقبال کو سراہا اور کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کسی سے خوفزدہ نہیں، تاہم احتجاج کے دوران پرامن رہنا ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے تمام جمہوری، آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے اور عمران خان سے ملاقات کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ بھی کیا، تاہم ان کے مطابق ملاقات نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں انصاف کی توقع ہو مگر انصاف نہ ملے وہاں آئین پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
سہیل آفریدی نے عمران خان کے علاج اور ان سے ملاقات کو قانونی و آئینی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے مقدمات کی سماعت ہونی چاہیے۔
انہوں نے عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ذمہ دار قرار دینے کا بھی اعلان کیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے مختلف آپریشنز اور دیگر اقدامات کیے گئے، تاہم ان کے بقول مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے امن کے قیام کے لیے اپنی پالیسی پیش کی ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے سیاسی مسائل کا حل نکالا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پختونوں کے مفادات کے خلاف کسی فیصلے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا قافلہ کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانہ ہوگا اور بعد ازاں خیبر سمیت دیگر علاقوں سے قافلے اس میں شامل ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے شرکاء سے پرامن رہنے اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی سے گریز کرنے کی اپیل بھی کی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کے آئندہ مرحلے اور مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان صوابی میں کیا جائے گا۔
موجودہ شیڈول کے مطابق کوہاٹ سے قافلہ پشاور پہنچنے کے بعد خیبر اور دیگر علاقوں کے شرکاء کے ساتھ آگے بڑھے گا۔

