خوشحال خان خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حالیہ اشتعال انگیز اور بے بنیاد بیانات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ یہ ایک منظم اور سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کا مقصد ریاست کی بنیادی اساس — افواجِ پاکستان اور وفاقی حکومت — کے خلاف نفرت اور انتشار پھیلانا ہے۔
یہ بیانات واضح طور پر پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت کی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ اور بڑھتی ہوئی مایوسی کا مظہر ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر ہمیشہ اعلیٰ ترین قومی خدمت کے اصولوں پر کاربند رہے ہیں، اور ادارے کے مؤقف کی نمائندگی صبر، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ کی ہے۔
وزیراعلیٰ کے یہ غیر ذمے دارانہ الزامات ایک مایوس کن اور ناکام کوشش ہیں جس کا مقصد صرف ایک سزا یافتہ سیاسی رہنما کو خوش کرنے کے لیے ایک قومی ادارے کو بدنام کرنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج خیبر پختونخوا میں جو بدامنی، ناقص حکمرانی، اور ترقی کا جمود نظر آتا ہے، وہ وزیراعلیٰ کی اپنی انتظامی ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔
یہ بات فراموش نہیں کی جا سکتی کہ پاک فوج نے خیبر پختونخوا میں امن و استحکام قائم کرنے کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں — ہمارے سپاہیوں نے دہشت گردی کے خلاف محاذِ جنگ پر اپنی جانیں نچھاور کیں۔
ایسے میں صوبے کے وزیراعلیٰ کی جانب سے انہی محافظوں پر الزام تراشی ناشکری، سیاسی دیوالیہ پن، اور فکری بددیانتی کے مترادف ہے۔
عوام کا پیغام بالکل واضح ہے:پاکستان کے عوام اپنی افواجِ پاکستان اور تمام قومی اداروں کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ان ستونوں پر حملہ دراصل ریاست کی خودمختاری اور استحکام پر حملہ سمجھا جائے گا۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ خارجیوں کے خلاف کاروائی میں مزید تاخیر اس غیر انسانی گروہ کو مزید طاقتور کر رہا ہے۔
سہیل آفریدی کیلئے یہ نادر موقع ہے کہ وہ صوبے کے عوام کو دہشت گردی کے ناسور سے نجات دلانے کیلئے ریاست کے ہراول دستے کا کردار ادا کریں۔
محض سیاسی نعروں اور سزا یافتہ نام نہاد قیادت کی خوشنودی کیلئے ریاست کی دہشت گردی کے خلاف جدو جہد کو سبوتاژ کرنے سے انکا انجام بھی انکے پیش روؤں سے مختلف نہیں ہوگا۔
