تاریخ کے صفحات پر بعض ایسے ابواب درج ہیں جو انسانیت کے لیے دائمی شرمندگی کا باعث ہیں۔ انہی میں سے ایک سیاہ باب 6 نومبر 1947 کو ریاست جموں و کشمیر میں رقم ہوا، جب بھارتی منصوبہ سازوں اور ہندو انتہاپسند تنظیموں نے ڈوگرہ فوج کے ساتھ مل کر کشمیری مسلمانوں پر ظلم و بربریت کا ایسا طوفان برپا کیا جو آج تک انسانیت کے ماتھے پر داغ بن کر ثبت ہے۔ یہ وہ دن تھا جب ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کشمیری مسلمان محض اپنے ایمان، اپنی شناخت اور اپنی آزادی کی خواہش کے جرم میں ذبح کر دیے گئے۔
1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے وقت برطانوی حکومت نے دو آزاد مملکتیں، بھارت اور پاکستان، قائم کیں اور ساتھ ہی یہ اصول طے کیا گیا کہ تمام ریاستیں اپنی جغرافیائی، معاشی اور مذہبی اکثریت کی بنیاد پر بھارت یا پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کریں۔
ریاست جموں و کشمیر اُس وقت ایک مسلم اکثریتی ریاست تھی، جہاں تقریباً 80 فیصد آبادی مسلمان تھی، مگر حکمران مہاراجہ ہری سنگھ ایک ہندو تھا۔ کشمیری عوام کی اکثریت پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتی تھی، لیکن ڈوگرہ راج، جو پہلے ہی مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہا تھا، نے بھارتی حکومت اور ہندو انتہاپسند تنظیموں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف ایک خفیہ منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کا مقصد مسلم آبادی کو اس حد تک کم کرنا تھا کہ مستقبل میں کسی بھی ریفرنڈم میں بھارت کے حق میں فیصلہ لیا جا سکے۔
اکتوبر اور نومبر 1947ء کے دوران ڈوگرہ فوج اور ہندو انتہاپسند گروہوں نے جموں کے مسلمانوں پر حملے شروع کیے۔ گھروں کو جلایا گیا، جائیدادیں لوٹی گئیں، عورتوں کی عصمت دری کی گئی، اور ہزاروں خاندانوں کو جبراً گھروں سے نکال دیا گیا۔ 6 نومبر کو یہ ظلم اپنی انتہا کو پہنچا جب ڈوگرہ فوج نے اعلان کیا کہ جو مسلمان پاکستان جانا چاہتے ہیں ان کے لیے قافلے تیار کیے گئے ہیں۔ ہزاروں معصوم مسلمان مرد، عورتیں اور بچے امید اور خوف کے درمیان اپنے گھروں سے نکلے، لیکن راستے میں انہی محافظوں نے ان پر گولیاں برسا دیں۔ قافلوں کو گھیر کر مشین گنوں سے بھون دیا گیا، عورتوں کو اغوا کر کے انتہاپسندوں کے حوالے کیا گیا اور بچوں کو نیزوں پر اچھالا گیا۔
مؤرخین کے مطابق صرف جموں ضلع میں ایک ہفتے کے دوران دو لاکھ سے زائد مسلمان شہید کیے گئے جبکہ پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ اپنی جانیں بچا کر پاکستان کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے۔ سیالکوٹ، لاہور، راولپنڈی اور گوجرانوالہ میں پناہ گزینوں کے کیمپ آباد ہوئے جن کے دلوں میں آج بھی اس قیامت کی یاد تازہ ہے۔ یہ ہجرت عام ہجرت نہ تھی بلکہ خون، آنسو اور جدائی کی کہانی تھی۔ راستے میں ہزاروں لوگ بھوک، پیاس اور زخموں سے دم توڑ گئے۔ ان کے لواحقین آج بھی اپنے پیاروں کی قبریں تلاش کر رہے ہیں جو کبھی ملی ہی نہیں۔
یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ عالمی برادری، جو انسانی حقوق کے تحفظ کی دعویدار ہے، اس نسل کشی پر خاموش رہی۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے باوجود بھارت نے نہ صرف کشمیری مسلمانوں کے حقِ خودارادیت کو سلب کیا بلکہ اس ظلم کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دے کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی۔ نہ کوئی بین الاقوامی کمیشن بنا اور نہ ہی کسی مجرم کو سزا ملی۔ 2019 میں جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو یہ اسی ظلم کی ایک نئی قسط تھی۔ ظلم کی وہی کہانی، صرف کردار بدل گئے۔
یاد رہے 6 نومبر 1947 کے شہداء نے جو خون دیا، وہ رائیگاں نہیں گیا۔ آج بھی کشمیری عوام بھارتی جبر کے باوجود آزادی کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے نعرے آج بھی گونجتے ہیں ہم کیا چاہتے؟ آزادی یہ جذبہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ بندوقیں قوموں کے حوصلے نہیں توڑ سکتیں۔ کشمیر کے شہداء نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ظلم وقتی ہوتا ہے، مگر آزادی کی تڑپ دائمی۔
پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے۔ 6 نومبر کو پاکستان بھر میں یومِ شہداءِ جموں منایا جاتا ہے، ریلیاں نکالی جاتی ہیں اور دعائیں کی جاتی ہیں۔ مگر اب وقت آ گیا ہے کہ محض نعروں سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر ایک مؤثر سفارتی مہم چلائی جائے تاکہ اس نسل کشی کو تاریخ کے پردوں سے نکال کر دنیا کے ضمیر کے سامنے رکھا جا سکے۔
6 نومبر 1947 کا سانحہ صرف کشمیر کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا زخم ہے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ جب ظلم کے خلاف آوازیں خاموش ہو جائیں تو تاریخ خود گواہی دیتی ہے کہ انسانیت مر چکی ہے۔ کشمیر آج بھی لہو لہان ہے مگر کشمیریوں کا ایمان اور عزم آج بھی زندہ ہے۔ شہداء جموں کا خون پکار رہا ہے کہ انصاف ضرور ہوگا، آزادی ضرور آئے گی، اور ظلم ایک دن زمین بوس ہو کر رہے گا۔ شہداء جموں کے خون سے لکھی گئی یہ داستان صرف ماضی نہیں، یہ مستقبل کا عہد ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان!
