16 دسمبرکا دن پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا کی تاریخ کا وہ المناک باب جو ہمیشہ ایک درد ناک اور تازہ زخم کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
16 دسمبر صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی صدمہ ہے جو قوم کے شعور پر ہمیشہ نقش رہے گا۔
یہ وہ دن تھا جب پشاور جسے پھولوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ علم کے پھولوں کو بے دردی سے کچل دیا گیا۔ وہ بچے جو بستے کندھوں پر ڈالے، خواب آنکھوں میں سجائے اسکول گئے تھے، وہ اپنی یونیفارم میں واپس نہ آ سکے۔
وہ سفید کفن اوڑھے گھروں کو لوٹے۔ یہ سانحہ صرف ان والدین کے لیے قیامت نہیں تھا جنہوں نے اپنے بچے کھوئے، بلکہ ہر اس انسان کے لیے دل دہلا دینے والا تھا جس کے سینے میں دل دھڑکتا ہے۔آرمی پبلک اسکول پر ہونے والا یہ حملہ محض ایک تعلیمی ادارے پر حملہ نہیں تھا، بلکہ پاکستان کے مستقبل پر حملہ تھا۔
یہ قلم، کتاب اور تعلیم کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔ دشمنوں نے یہ گمان کیا کہ وہ خوف پھیلا کر اس قوم کے حوصلے توڑ دیں گے، مگر وہ یہ بھول گئے کہ یہ قوم قربانیوں سے جنم لیتی ہے اور ہر زخم سے مزید مضبوط ہو کر اٹھتی ہے۔
ظلم کے بازار میں ظلم کی داستانیں بہت ہیں، مگر پشاور میں جو ہوا وہ ظلم کی انتہا تھی۔ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت میں قابلِ جواز نہیں ہو سکتا۔
جن کا کوئی اپنا بھی اس سانحے میں شامل نہیں تھا، وہ بھی یوں ٹوٹ گئے جیسے ان کا اپنا کوئی بچھڑ گیا ہو۔ آنکھیں نم، دل بوجھل، اور زبان پر ایک ہی سوال رہ گیا: آخر ان بچوں کا قصور کیا تھا؟آج ہم ان معصوم شہداء کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے اپنے لہو سے تاریخ رقم کی۔
انہوں نے اپنی قربانی سے یہ پیغام دیا کہ علم کی شمع کو بجھایا نہیں جا سکتا۔ دشمن گولیوں سے جسموں کو خاموش کر سکتا ہے، مگر خیالات، خواب اور حوصلے کو کبھی قتل نہیں کر سکتا۔
جب ہمیں پشاور کے اسی آرمی پبلک اسکول کے ہال میں بیٹھنے کا موقع ملا۔اسی ہال میں جہاں وہ قیامت برپا ہوئی تو ہر دیوار، ہر گوشہ، ہر اینٹ ایک زندہ داستان سناتی محسوس ہوئی۔ ایسا لگتا تھا جیسے دیواریں آج بھی ان معصوم بچوں کی صداؤں کو سنبھالے ہوئے ہیں۔
وہاں بیٹھ کر یہ احساس اور بھی شدید ہو جاتا ہے کہ ان بچوں پر اس لمحے کیا گزری ہو گی جب درندے اسکول میں داخل ہوئے ہوں گے۔یہ درد وقت کے ساتھ کم نہیں ہوا، بلکہ ہر سال 16 دسمبر کو مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ تاہم، اس درد کے ساتھ ایک عزم بھی جنم لیتا ہے۔
ایک ایسا عزم جو ہمیں جھکنے نہیں دیتا۔ یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعلیم ہی ہماری اصل طاقت ہے اور قلم کی قوت بندوق سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔16 دسمبر ہمیں صرف رلانے کے لیے نہیں آتا، بلکہ ہمیں جھنجھوڑنے آتا ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ بنانا ہے تو نفرت، انتہا پسندی اور جہالت کے خلاف متحد ہونا ہو گا۔
خاموشی بھی بعض اوقات جرم بن جاتی ہے، اور حق کے لیے آواز اٹھانا ہی اصل خراجِ عقیدت ہے۔آج بھی یہ سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ کیا ہم نے ان شہداء کی قربانی کا حق ادا کیا؟ کیا ہم نے وہ پاکستان بنایا جس کا خواب ان بچوں نے دیکھا تھا؟ یہ سوال ہمیں ہر سال مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے رویوں، فیصلوں اور ترجیحات پر نظرِ ثانی کریں۔
یہ بچے چلے گئے، مگر ہمیں جینا سکھا گئے۔یہ خاموش ہو گئے، مگر ہمیں بولنا سکھا گئے۔یہ شہید ہو گئے، مگر پوری قوم کو بیدار کر گئے۔
آخر میں، 16 دسمبر صرف ایک سیاہ دن نہیں بلکہ ایک عہد ہے.کہ ہم نہ بھولیں گے، نہ رکیں گے، اور نہ ہی ان قربانیوں کو رائیگاں جانے دیں گے۔ یہی ان معصوم شہداء کے لیے ہمارا وعدہ ہے۔
