16 دسمبر 2014 پاکستان کی تاریخ کا وہ اندوہناک دن ہے جس نے پوری قوم کو غم، صدمے اور کرب میں مبتلا کر دیا۔
پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والا دہشت گرد حملہ محض ایک تعلیمی ادارے پر نہیں، بلکہ پاکستان کے مستقبل، امن اور اجتماعی شعور پر حملہ تھا۔
آج اس دل خراش سانحے کو گیارہ برس گزر چکے ہیں، مگر شہداء کی یادیں، والدین کی آہیں اور قوم کے دل پر ثبت زخم آج بھی تازہ ہیں۔
اس المناک واقعے کی تفصیلات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں نے 12 سے 18 برس کی عمر کے 134 معصوم طلبہ کو بے دردی سے شہید کیا، جبکہ اساتذہ اور اسکول کے پرنسپل بھی اس سفاکیت کا نشانہ بنے۔
آڈیٹوریم میں موجود آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی، جس نے چند لمحوں میں ہنستے کھیلتے چہروں کو خاموش کر دیا اور ایک درسگاہ کو قیامت کا منظر بنا دیا۔
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ یہ گھناؤنا جرم فتنہ الخوارج نے انجام دیا، جن کا مقصد ملک میں خوف، نفرت اور انتشار پھیلانا تھا۔ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود عناصر کے ذریعے کی گئی، جن کے روابط دشمن خفیہ ایجنسیوں سے تھے۔
اس بزدلانہ کارروائی کا ماسٹر مائنڈ فضل اللہ تھا، جبکہ گل زمان اورکزئی، عمر نرائی اور محمد خراسانی اس کے اہم ساتھیوں میں شامل تھے، جنہیں بعد ازاں سیکیورٹی فورسز نے منطقی انجام تک پہنچایا۔سانحہ کے فوراً بعد پوری پاکستانی قوم یکجا ہو گئی۔
سیاسی اور عسکری قیادت نے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں نیشنل ایکشن پلان تشکیل پایا۔ اس قومی حکمتِ عملی کے تحت دہشت گرد تنظیموں، ان کے سہولت کاروں اور مالی نیٹ ورکس کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی گئیں، جس سے ملک میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی، اگرچہ مکمل اور مسلسل عملدرآمد آج بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
آج گیارہویں برسی کے موقع پر ملک بھر میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ آرمی پبلک اسکول پشاور میں دعائیہ تقریبات، قرآن خوانی اور شمع روشن کرنے کی محافل منعقد ہوئیں۔ شہداء کے نام پکارے گئے تو فضا سوگوار ہو گئی، جبکہ والدین آج بھی اپنے بچوں کی کتابیں، اسکول بیگ اور یونیفارم دیکھ کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔
سانحہ آرمی پبلک اسکول نے یہ حقیقت بھی آشکار کر دی کہ فتنہ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ عناصر مذہب کے نام پر نفرت، تشدد اور قتل و غارت گری کو فروغ دیتے ہیں، جبکہ اسلام امن، برداشت اور انسانیت کا پیغام دیتا ہے۔
ملکی و عالمی سطح پر ممتاز علمائے کرام نے دہشت گردی کو حرام قرار دیتے ہوئے ان عناصر کو غیر اسلامی ثابت کیا، جس کی واضح مثال پیغامِ پاکستان ہے۔دوسری جانب پاکستانی قوم اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
آرمی پبلک اسکول کے شہداء ان قربانیوں کی سب سے دردناک مگر طاقتور علامت ہیں۔ ریاست نے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت امن دشمن عناصر کے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے اور اس مقصد کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔بالآخر سانحہ آرمی پبلک اسکول ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ امن کی حفاظت کے لیے اتحاد، ہوشیاری اور قربانی ناگزیر ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ایک ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہے جہاں کوئی بچہ خوف کے سائے میں اسکول جانے پر مجبور نہ ہو، اور جہاں تعلیم بندوق نہیں بلکہ قلم کے ذریعے فروغ پائے۔یوں گیارہ برس گزرنے کے باوجود آرمی پبلک اسکول کے شہداء قوم کے دلوں میں زندہ ہیں۔
ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پوری قوم آج ایک بار پھر اس عہد کی تجدید کرتی ہے کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور نفرت کے خلاف متحد رہے گی اور ایک پرامن، محفوظ اور روشن پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ہم اپنے شہداء کو کبھی نہیں بھولیں گے۔
