پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ ملک اپنی بنیاد سے لے کر آج تک مسلسل آزمائشوں سے گزرتا رہا ہے۔کبھی بیرونی جارحیت نے اس کی سلامتی کو چیلنج کیا، کبھی اندرونی خلفشار نے اس کے اتحاد کو کمزور کیا، تو کبھی قدرتی آفات نے عوام کو کڑی آزمائش میں ڈالا۔ لیکن ان تمام مراحل میں ایک سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ایک قوم بننے کے بجائے گروہوں اور جماعتوں میں بٹ کر رہ گئے ہیں؟ کیا ہم سیاست کو بالاتر رکھ کر خود کو ایک متحد اور مضبوط قوم کے طور پر دنیا کے سامنے لا سکتے ہیں؟ یہی سوال آج کے پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست نے ہماری اجتماعی سوچ کو بری طرح تقسیم کر دیا ہے۔ ایک جماعت کا کارکن دوسری جماعت کے کارکن کو اپنا حریف ہی نہیں بلکہ دشمن سمجھتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گالم گلوچ سے لے کر سڑکوں پر جھڑپوں تک یہ تقسیم ہماری اخلاقیات کو کھا گئی ہے۔ حالانکہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے یہی سبق سکھایا ہے کہ سیاست اختلاف رائے کا نام ہے لیکن قومی مفاد کے معاملے میں سب ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہاں قومی ایشوز بھی سیاسی فائدے اور نقصان کے ترازو میں تولے جاتے ہیں۔اگر دہشتگردی کے خلاف جنگ کو دیکھیں تو یہ کوئی ایک جماعت یا ادارے کی جنگ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے بقا کی جنگ ہے۔ اس میں ہمارے فوجی جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، پولیس کے سپاہی اپنے لہو سے زمین کو سینچ رہے ہیں، اور عام شہری اپنے بچوں کو قربان کر رہے ہیں۔ لیکن اس قربانی کو سیاست کی نذر کر دینا انصاف نہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے صرف گولی یا بندوق کافی نہیں، اس کے لیے قومی اتفاقِ رائے بھی ضروری ہے۔ جب تک سیاست دان اور عوام اپنی ذاتی وابستگیوں کو پیچھے چھوڑ کر ایک قوم کی طرح کھڑے نہیں ہوں گے تب تک دہشتگرد اپنے لئے جگہ بناتے رہیں گے۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں جھوٹے اور من گھڑت پروپیگنڈے نے ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ خصوصاً افواجِ پاکستان اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات پھیلائی جاتی ہیں تاکہ عوام کے ذہنوں میں بدگمانی پیدا ہو۔ دشمن عناصر بخوبی جانتے ہیں کہ اگر پاکستانی فوج اور عوام کے درمیان اعتماد ٹوٹ گیا تو ملک کی جڑیں کمزور ہو جائیں گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم بطور قوم اس پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں اور اداروں کے خلاف جھوٹے بیانیے کو رد کریں۔ جو قوم اپنی فوج اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہو، اسے شکست دینا کسی کے بس کی بات نہیں۔اسی طرح اگر ہم قدرتی آفات پر نظر ڈالیں تو حالیہ سیلاب اور فلیش فلڈز نے ہمارے لاکھوں شہریوں کو بے گھر کر دیا، کھیت کھلیان تباہ ہو گئے اور معیشت کو کمر توڑ نقصان پہنچا۔ ان لمحات میں یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ صرف فوج، ریسکیو ادارے یا چند فلاحی تنظیمیں اس آفت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اگر پوری قوم ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر نہ اٹھ کھڑی ہو تو ایسی آفات مزید تباہی لاتی ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ان مشکل دنوں میں بھی سیاست اپنی پرانی عادت سے باز نہ آئی۔ متاثرین کی امداد بھی جماعتی عینک سے دیکھی گئی اور اس پر سیاست کی گئی۔ یہی رویہ ہمیں ایک قوم بننے سے روک رہا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ان آفات میں سب سے نمایاں اور فعال کردار پاک فوج نے ادا کیا ہے۔ چاہے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ہوں یا سیلاب اور زلزلے جیسے بڑے چیلنجز، فوج کے جوان ہمیشہ سب سے آگے نظر آتے ہیں۔ ریلیف کیمپ لگانے، متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، طبی سہولیات فراہم کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی جیسے کاموں میں پاک فوج نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ فوج کا ہر ادارہ ایک پیج پر ہے اور ایک منظم ٹیم کی طرح صرف اور صرف پاکستان اور عوام کی خدمت کے لئے سرگرم ہے۔ یہی یکجہتی اور ہم آہنگی وہ بنیاد ہے جو پاکستان کو مشکل وقت میں سہارا دیتی ہے اور دشمن کے ہر منفی پروپیگنڈے کو ناکام بناتی ہے۔لیکن اگر ہم پاکستان کی زمینی حقیقت کو دیکھیں تو یہ ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت کا بڑا دارومدار پانی اور زمین کی زرخیزی پر ہے۔ جب بارشوں کا پانی ضائع ہو کر سیلاب کی صورت میں تباہی مچاتا ہے تو اس کے اثرات صرف کسان تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کے بہتر انتظام اور مزید ڈیموں کی تعمیر وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے۔ کالا باغ ڈیم سمیت کئی منصوبے ایسے ہیں جو اگر بن جائیں تو نہ صرف بجلی کی پیداوار بڑھے گی بلکہ سیلابی پانی بھی قابو میں آ سکے گا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ایسے منصوبے بھی سیاست اور صوبائی اختلافات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک قوم ہیں تو ہمیں اجتماعی سوچ کے ساتھ ان مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں پانی کی کمی اور تباہ کن سیلابوں سے محفوظ رہ سکیں۔پاکستانی قوم نے بارہا ثابت کیا ہے کہ بحران کے وقت وہ متحد ہو سکتی ہے۔ 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010، 2011 ، 2014، 2022 اور 2025 کے سیلاب ہو پوری قوم نے متاثرین کی مدد کی۔ اسی طرح دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عوام نے فوج کے ساتھ کھڑے ہو کر قربانیاں دیں۔ سیلاب کے دنوں میں ہزاروں نوجوانوں نے اپنے گھروں سے نکل کر متاثرہ خاندانوں کی خدمت کی۔ یہ وہ لمحے ہیں جب پاکستان واقعی ایک قوم کی طرح ابھرتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ جذبہ کیوں صرف آزمائش کے وقت پیدا ہوتا ہے؟ عام حالات میں کیوں ہم ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں؟اس سوال کا جواب ہمیں اپنی سیاست اور اجتماعی سوچ میں تلاش کرنا ہوگا۔ ہماری سیاست نے معاشرے کو تقسیم در تقسیم کا شکار کیا ہے۔ ہر جماعت اپنے کارکن کو یہ سبق دیتی ہے کہ وہی محبِ وطن ہے اور باقی سب غدار ہیں۔ یہی سوچ معاشرے میں نفرت کے بیج بوتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وطن پرستی کسی ایک جماعت کی میراث نہیں، یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم یہ طے کر لیں کہ پاکستان کی سالمیت اور ترقی سب سے مقدم ہے تو پھر اختلافِ رائے کے باوجود ایک قوم کی طرح آگے بڑھ سکتے ہیں۔دنیا کی بڑی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ یورپ کی کئی قومیں صدیوں تک ایک دوسرے سے لڑتی رہیں، لیکن جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ سیاسی اور علاقائی اختلافات کے باوجود مشترکہ مفاد سب سے بڑا ہے تو وہ یورپی یونین کی شکل میں اکٹھی ہو گئیں۔ جاپان اور جرمنی دوسری جنگِ عظیم میں تباہ ہو گئے تھے لیکن انہوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اپنے ملک کی ترقی کو ترجیح دی اور آج دنیا کی مضبوط معیشتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر یہ قومیں اپنی سیاست کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ سکتی ہیں تو ہم کیوں نہیں؟پاکستان کے پاس سب کچھ موجود ہے۔ دنیا کا بہترین نوجوان طبقہ، زرخیز زمین، معدنی وسائل اور ایک عظیم فوج جو ہر کٹھن مرحلے پر ملک کی حفاظت کرتی ہے۔ کمی ہے تو صرف قومی یکجہتی کی۔ یہ یکجہتی اس وقت پیدا ہوگی جب سیاست دان، ادارے اور عوام سب یہ طے کر لیں کہ ذاتی مفاد سے بڑھ کر قومی مفاد ہے۔ جب کسی آفت کے وقت ہم متاثرہ کو اس کی جماعت یا علاقے کی بنیاد پر نہ دیکھیں بلکہ اسے پاکستانی سمجھ کر گلے لگائیں۔ جب ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری سمجھیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری سیاسی قیادت بھی اپنی زبان اور رویہ بدلے۔ وہ عوام کو یہ درس دے کہ اختلاف رائے دشمنی نہیں بلکہ جمہوریت کا حسن ہے۔ وہ یہ سمجھائیں کہ ہم ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہوئے بھی پاکستان کے لیے متحد رہ سکتے ہیں۔ اگر قیادت یہ سبق نہیں دے گی تو عوام مزید تقسیم ہوتے جائیں گے۔ اسی طرح عوام کو بھی یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ سوشل میڈیا کی جنگوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے عملی طور پر ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔نتیجہ صاف ہے: پاکستان اس وقت تک ایک مضبوط قوم نہیں بن سکتا جب تک ہم سیاست سے بالاتر ہو کر سوچنا نہیں سیکھیں گے۔ سیاست اپنی جگہ ضروری ہے، اختلاف رائے بھی جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن جب بات پاکستان کی بقا اور سلامتی کی ہو تو سب اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک پرچم تلے جمع ہونا ہوگا۔ دہشتگردی، سیلاب، مہنگائی، غربت یہ سب مسائل سیاسی تقسیم سے حل نہیں ہوں گے بلکہ قومی اتحاد سے حل ہوں گے۔اگر ہم نے آج بھی نہ سیکھا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ لیکن اگر ہم نے آج یہ فیصلہ کر لیا کہ پاکستان سب سے پہلے ہے، تو کوئی طاقت ہمیں ایک عظیم اور باوقار قوم بننے سے نہیں روک سکتی۔
