افغانستان کی سرزمین، خاص طور پر خوست، ننگرہار، پکتیا اور پکتیکا کے مختلف علاقوں میں، اس وقت ایک نئی خانہ جنگی نے جنم لیا ہے جس نے نہ صرف خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والے یہ گروہ دراصل دولت اور طاقت کے غلام ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ مفتی نور ولی محسود گروپ اور حافظ گل بہادر گروپ کے درمیان ہونے والی جھڑپیں اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں کہ ان کا مقصد نہ اسلام کی خدمت ہے اور نہ ہی کسی ’’جہاد‘‘ کی تکمیل، بلکہ ان کی پوری جدوجہد صرف اور صرف فنڈنگ، اثر و رسوخ اور اختیارات پر قبضے کے گرد گھومتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ان کی صفوں میں شدید دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ مختلف دھڑوں کی جانب سے جاری بیانات اس امر کو ظاہر کرتے ہیں کہ اندرونی اختلافات ناقابلِ تردید ہو چکے ہیں۔
دشمن ایجنسیوں کے عناصر ان کے اندرونی حلقوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں، اور ان کی مخبری کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یہ گروہ ایک دوسرے پر بداعتمادی اور نفرت کی بنیاد پر حملے کر رہے ہیں۔نور ولی محسود گروپ اور گل بہادر گروپ کے درمیان تنازع کی اصل بنیاد مالی وسائل پر اجارہ داری ہے۔
بیرونی ایجنسیوں اور مختلف ذرائع سے آنے والی فنڈنگ پر قبضے کی دوڑ نے انہیں آپس میں دشمن بنا دیا ہے۔ یہ دونوں گروہ یہ چاہتے ہیں کہ ڈالرز کی تقسیم، مالی سہولت کاری اور بیرونی امداد پر ان کا کنٹرول رہے۔ اسی مقصد کے تحت وہ ایک دوسرے پر فنڈ ہتھیانے، مخبری کرنے اور وسائل لوٹنے کے الزامات لگا رہے ہیں۔امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد یہاں بھاری اسلحہ ڈپو اور جدید ہتھیاروں کے ذخائر رہ گئے تھے۔
ان ہتھیاروں میں ڈرون ٹیکنالوجی، جدید بارودی سرنگیں اور بھاری مشین گنز شامل ہیں۔ اب یہ دونوں گروہ ان ذخائر پر قبضے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ہر گروہ یہ چاہتا ہے کہ جدید اسلحے کی فراہمی پر اس کی اجارہ داری قائم ہو تاکہ وہ عسکری اعتبار سے دوسرے پر برتری حاصل کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ خوست، ننگرہار، پکتیا اور پکتیکا کے مختلف مقامات پر مسلح جھڑپیں جاری ہیں، جن میں اب تک کل 32 خوارج مارے جا چکے ہیں۔
اس پورے کھیل میں افغان حکومت کے بعض عناصر بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مقامی اطلاعات کے مطابق افغان حکومتی اہلکار اور خفیہ ایجنسیوں کے لوگ پیسے لے کر ان گروہوں کے ٹھکانوں اور اہم مقامات کی معلومات مخالف دھڑوں تک پہنچا رہے ہیں۔
یہ کاروبار اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب یہ گروہ ایک دوسرے کو اپنے ہی مراکز میں نشانہ بنانے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے ایک مرکز کی مسجد میں حالیہ دھماکے نے دنیا کو چونکا دیا، جہاں مخبری کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور 28 خوارج جہنم واصل ہو گئے۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی گواہی ہے کہ ڈالرز کے غلام یہ دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرنے اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانے سے بھی باز نہیں آتے۔نور ولی گروپ کے قریبی کمانڈروں نے گل بہادر گروپ کو خوست اور ننگرہار کے بعض علاقوں سے نکلنے کا الٹی میٹم دیا تھا، لیکن گل بہادر گروپ نے اس دھمکی کو رد کرتے ہوئے براہِ راست ٹی ٹی پی کے مرکزی اختیار کو چیلنج کر دیا۔
اس کے بعد خونریز جھڑپوں کا آغاز ہوا جن میں دونوں گروہوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان جھڑپوں میں کل 32 خوارج مارے گئے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ یہ جھڑپیں کسی ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ کئی اضلاع میں بھی پھیل چکی ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں کہ ایسے شدت پسند گروہ آپس میں لڑے ہوں۔
ماضی میں بھی یہ دھڑے وقتی مفادات کے تحت اکٹھے ہوئے لیکن دولت، طاقت اور اختیار کی ہوس نے ہمیشہ انہیں دوبارہ تقسیم کر دیا۔ ٹی ٹی پی کے قیام سے لے کر اب تک کئی بار اس تنظیم کے اندر دھڑے بندی دیکھنے کو ملی ہے۔
کبھی بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کے گروپوں کے درمیان اختلافات ابھرے، تو کبھی مختلف کمانڈروں نے علیحدہ راستہ اختیار کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان کے ہر اتحاد کا انجام جلد ہی انتشار اور خانہ جنگی پر ہوا۔افغان طالبان حکومت نے ان جھڑپوں کا الزام پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
ان کے مطابق ڈرون حملوں میں عام شہری نشانہ بنے ہیں لیکن زمینی حقائق اور آزاد شواہد اس پروپیگنڈے کو جھٹلاتے ہیں۔ خوست اور ننگرہار کے مقامی ذرائع صاف کہتے ہیں کہ یہ سب تصادم انہی گروہوں کی اندرونی دشمنیوں کا نتیجہ ہے۔
پاکستان کا اس میں کوئی کردار نہیں۔ دراصل طالبان حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور عالمی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے یہ بیانیہ استعمال کررہی ہے تاکہ دنیا کی توجہ اصل حقائق سے ہٹ جائے۔
افغانستان کی سرزمین پر جاری نور ولی گروپ اور گل بہادر گروپ کی یہ خانہ جنگی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ یہ گروہ صرف اور صرف اپنے مفادات کے اسیر ہیں۔
ان کے لیے نہ دین اہم ہے، نہ عوام کی جان و مال کی حرمت۔ ان کا اصل مقصد ڈالرز، اسلحہ اور اختیارات پر قبضہ ہے۔
یہ گروہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں اور اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔یہ خانہ جنگی اس بات کا اعلان ہے کہ فتنہ الخوارج کے دن گنے جا چکے ہیں۔
ان کے اندرونی اختلافات، مخبریاں اور دولت کی ہوس انہیں اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی ہے۔
آخرکار یہ اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں پھنس کر ختم ہو جائیں گے۔ تاہم اس پورے منظرنامے کا سب سے بڑا نقصان افغان عوام کو ہو رہا ہے جو پہلے ہی دہائیوں سے بدامنی اور خانہ جنگی کا شکار ہیں۔
ان شدت پسند گروہوں نے عوام سے امن، خوشحالی اور ترقی کا حق چھین رکھا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایسے گروہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہتے۔
ان کا انجام قریب ہے اور وہ انجام صرف تباہی اور بربادی ہوگا.
