ثمر ہارون بلور نے پشاور پریس کلب کا دورہ کیا اور صحافیوں سے ملاقات میں گورنر فیصل کریم کنڈی کے اقدامات پر گفتگو کی۔
ثمر ہارون بلور کا پشاور پریس کلب کا دورہ، صحافیوں سے ملاقات؛ گورنر فیصل کریم کنڈی کے اقدامات اور عوامی فلاحی منصوبوں پر گفتگو
پشاور:مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی قیادت میں صوبے میں امن و امان کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے، پولیس کی فلاح و بہبود اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور میڈیا کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے شفافیت، سچائی اور حقائق پر مبنی صحافت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
منگل کے روز پشاور پریس کلب کے دورے کے موقع پر صدر پریس کلب، کابینہ اور سینئر صحافیوں سے ملاقات اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے صوبے کی امن و امان کی صورتِ حال، قومی ایکشن پلان، انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔
انہوں نے پشاور پریس کلب کی صحافتی روایات اور پیشہ ورانہ خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کے ساتھ ان کا دیرینہ تعلق ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ہر ہفتے ایڈوائزری کونسل کی کارکردگی سے میڈیا کو آگاہ کریں گی اور صحافیوں کی تجاویز اور تعمیری تنقید کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
شہدا کے خاندانوں کی معاونت اور سکیورٹی اہلکاروں کو ضروری وسائل کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے سابق صوبائی حکومت کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ضروریات اور اہلکاروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ گورنر فیصل کریم کنڈی کی قیادت میں خیبرپختونخوا پولیس کے لیے 10 آرمڈ گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں، جبکہ شہدا کے خاندانوں میں تقریباً 55 پلاٹس تقسیم کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں اور شہادت پیکیجز میں اضافہ کیا گیا ہے، شہید پولیس اہلکاروں کی بیٹیوں کے لیے جہیز فنڈ اور مستحق خاندانوں کے لیے مالی معاونت کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ شہدا کی بیواؤں اور بچوں کو دفتری مشکلات سے بچاتے ہوئے امداد ان کی دہلیز تک پہنچائی جائے۔
دیر کالونی پشاور کے افسوسناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے مشیرِ اطلاعات نے کہا کہ گورنر اور ایڈوائزری کونسل کے ارکان نے متاثرہ خاندانوں سے رابطہ کیا اور زخمی بچوں کے علاج، آپریشنز اور دیگر طبی ضروریات کے لیے معاونت فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت کا تقاضا ہے کہ مشکل وقت میں متاثرین تک خود پہنچا جائے۔
شہری سہولیات کے حوالے سے ثمر ہارون بلور نے بتایا کہ پشاور میں صفائی، نکاسی آب، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور کی کارکردگی بہتر بنانے، انتظامی اصلاحات اور صفائی کے نظام کی مؤثر نگرانی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائیاں قانون کے مطابق اور سیاسی مداخلت سے بالاتر ہو کر کی جائیں گی، تاہم شہریوں کی جائز ملکیت کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا۔
منشیات کے خلاف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ستمبر 2026 کے دوران صرف پشاور سے 960 کلوگرام منشیات برآمد کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو منشیات سے محفوظ رکھنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور منشیات کی اسمگلنگ و فروخت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضم شدہ اضلاع اور جنوبی خیبرپختونخوا سمیت پسماندہ علاقوں میں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
تعلیمی سہولیات سے محروم علاقوں کی نشاندہی اور نئے اسکولوں کے قیام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ وہاں کے بچوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔
ان کے مطابق صوبے کی محرومیوں کے خاتمے اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے وفاقی حکومت کے تعاون سے ترقیاتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
پشاور پریس کلب کے مسائل کے حوالے سے ثمر ہارون بلور نے یقین دلایا کہ زیرِ التوا معاملات صدر، کابینہ اور منتخب نمائندوں کی مشاورت سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی ترجیحات میں وعدوں کے بجائے عملی اقدامات، شفافیت اور عوامی مسائل کا مؤثر حل شامل ہے۔
آخر میں انہوں نے پشاور پریس کلب کے صدر، کابینہ اور سینئر صحافیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے ساتھ مستقل رابطے اور تعاون کے ذریعے صوبے میں امن، ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی فلاح کے اقدامات کو آگے بڑھایا جائے گا۔

