لاہور(مہم نیوز)پاکستان ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی تحقیقات میں نیا موڑ آ گیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی تحقیقات میں نیا موڑ آ گیا ہے اور ذرائع نے بتایا ہے ہے کہ محمد رضوان انکوائری میں مکمل تعاون نہیں کر رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا فرانزک ڈیپ اینالسیز کیلیے این سی سی آئی اے کا متعدد بار محمد رضوان سے رابطہ کیا ہے، لیکن کرکٹر این سی سی آئی اے انکوائری میں مکمل تعاون نہیں کر رہے۔
محمد رضوان نے مکمل تعاون نہ کیا تو قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ تفتیش کو فائنل کرنے کیلیے فون کا اینٹی تھیفٹ لاک اور فیشل ریکگنیشن لاک کھولنا ضروری ہے۔
این سی سی آئی اے مختلف موبائل ٹولز کی مدد سے فون کو ان لاک کرسکتی ہے۔ تاہم ٹولز کی مدد سے کچھ ڈیٹا ڈیلیٹ ہو سکتا ہے، جو این سی سی آئی اے نہیں چاہتی۔
ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے محمد رضوان سے پیر 28 ستمبر کو دوبارہ رابطہ کرے گی۔
اگر محمد رضوان نے تفتیش میں تعاون نہ کیا تو پھر تحریری نوٹس بھیجا جائیگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ محمد رضوان کو اکسا رہے ہیں وہ دراصل ان کے خیر خواہ نہیں۔
این سی سی آئی اے تفتیش مکمل ہونے تک کسی قسم کا الزام نہیں لگانا چاہتی۔ کسی کو کٹہرے میں لانا مقصد نہیں، بلکہ نیشنل ہیروز کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلانا ہے۔
این سی سی ذرائع کا کہنا ہے کہ کرکٹر امام الحق تفتیش میں تعاون کر رہے ہیں۔
امام الحق کے موبائل فون کے فرانزک ڈیپ اینالسیز کا آغاز ان کی موجودگی میں کیا گیا۔ امید ہے امام الحق کے فون کا ڈیپ اینالسیز جلد مکمل ہو جائےگا۔
این سی سی آئی اے آن لائن بیٹنگ، کرپشن، کرمنل سرگرمیوں سمیت مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے اور اسلام آباد آفس میں کیس کی تفتیش جاری ہے
