پشاور(مہم نیوز)تحریک انصاف نے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے آزما لیے، اب پرامن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں، وزیراعلیٰدو سال تک صبر کیا، اسمبلیوں، عدالتوں اور دیگر آئینی فورمز سے رجوع کیا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی، سہیل آفریدی۔
عمران خان اور تحریک انصاف کو دبانے کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی، وزیراعلیٰ27 ستمبر کو عوام کا سمندر نکلے گا، نہ دھمکیاں ہمیں خوفزدہ کر سکتی ہیں نہ دباؤ ہماری جدوجہد روک سکتا ہے، سہیل آفریدی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران اپنے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کیے، وفاقی و پنجاب حکومت سے رابطے کیے، اسمبلیوں میں اپنا مقدمہ پیش کیا اور عدالتوں سے رجوع کیا، لیکن جب کسی سیاسی جماعت کو آئینی و قانونی راستوں سے انصاف نہ ملے تو پرامن احتجاج ہی اس کا آئینی حق اور آخری راستہ رہ جاتا ہے۔
27 ستمبر کو ہم پوری قوت کے ساتھ پرامن احتجاج کریں گے اور اپنے اس آئینی و جمہوری حق سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
وزیراعلیٰ نے ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر قائم مقام چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، پی ٹی آئی کے پارلیمنٹیرینز اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 26 نومبر 2024 کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ظلم، جبر اور سیاسی انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
26 نومبر کو ڈی چوک میں اپنے آئینی اور جمہوری حق کے لیے جمع ہونے والے پرامن شہریوں پر فائرنگ کی گئی، متعدد کارکن شہید ہوئے اور اس کے بعد تحریک انصاف کے خلاف مزید سخت کارروائیاں شروع کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ 26 نومبر 2024 سے شروع نہیں ہوا بلکہ 9 اپریل 2022 سے تحریک انصاف کو مسلسل سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ہماری پر امن تحریک کے دوران کارکنوں کی شہادتیں ہوئی ہیں، لیکن تمام تر ظلم و جبر کے باوجود تحریک انصاف نہ ٹوٹی، نہ جھکی اور نہ ختم ہوئی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں رکھا گیا جبکہ گزشتہ دن ان کی تین بہنوں اور کم سن بچوں کو بھی گرفتار کیا گیا، لیکن ایسے اقدامات کے باوجود تحریک انصاف کی جدوجہد جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ 26 نومبر 2024 کے بعد تقریباً دو سال کا عرصہ گزرنے کو ہے۔
اس دوران تحریک انصاف نے کوئی بڑا لانگ مارچ نہیں کیا، خیبرپختونخوا سے باہر کوئی بڑا جلسہ نہیں کیا اور حتیٰ کہ حکومت نے بھی اپنے تمام آئینی اور جمہوری فورمز استعمال کیے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف نے اپنا مقدمہ پیش کیا، قومی اسمبلی میں اپنا مؤقف اٹھایا اور تمام آئینی فورمز سے بھی رجوع کیا، لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
وفاقی اور پنجاب حکومتوں سے بھی رابطہ کیا گیا، لیکن ان کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا، لیکن عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عدالتوں کے احکامات بھی نافذ نہ ہوں تو عام شہری انصاف کے لیے کہاں جائے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے احکامات جاری کیے گئے، لیکن ان پر عمل نہیں کیا گیا۔
اسی طرح عمران خان کے علاج اور طبی سہولیات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات کا بھی حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر عدالت عظمیٰ کے احکامات بھی نظر انداز کیے جائیں تو آئینی و قانونی راستوں کی افادیت پر سوال اٹھتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف نے اسمبلیوں کو استعمال کیا، عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ہر ممکن آئینی راستہ اختیار کیا۔
جب ان تمام راستوں سے شنوائی نہ ہوئی تو پرامن احتجاج کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کوئی جرم نہیں بلکہ آئین کی جانب سے دیا گیا بنیادی جمہوری حق ہے۔
اگر کسی کو یہ حق چھیننا ہے تو پھر آئین کی اس شق کو ہی ختم کرنا ہوگا جو شہریوں کو پرامن اجتماع اور احتجاج کا حق دیتی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ جب حکومت اور سیاسی جماعت آئینی راستوں پر چلنے کی کوشش کرے اور اسے مسلسل نظر انداز کیا جائے تو احتجاج کا حق استعمال کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف جمہوری جماعت ہے اور عوام کے مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آتی ہے۔ ہم چور دروازوں یا کسی کی بیساکھی کے ذریعے حکومت میں آنے پر یقین نہیں رکھتے۔
جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ پر ہمارا یقین ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا فیصلہ آج کے پارلیمانی اجلاس میں بھی برقرار رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ 27 ستمبر کو پوری قوت کے ساتھ، مکمل طور پر پرامن اور آئینی انداز میں عوام سڑکوں پر نکلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کی بہنوں کو گرفتار کرکے یا تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں کو دباؤ میں لا کر اس تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
سہیل آفریدی نے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر صوبائی وزیر شکیل خان پر سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد حملہ کریں یا فضل شکور خان کی گاڑی پر سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد فائرنگ کریں اور انہیں اغوا کریں تو ایسے واقعات تحریک کو ختم نہیں کر سکتے بلکہ اس میں مزید جان ڈالیں گے۔ نہ ایسے ہتھکنڈے ہمیں خوفزدہ کر سکتے ہیں اور نہ 27 ستمبر کی جدوجہد سے پیچھے ہٹا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چار سال سے تحریک انصاف کے کارکنوں کو دباؤ، مقدمات، گرفتاریوں اور دیگر کارروائیوں کے ذریعے خوفزدہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن یہ تمام کوششیں تحریک کو ختم نہیں کر سکیں۔ اب بھی نہ ہمیں خوفزدہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہمارے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام میں 27 ستمبر کے حوالے سے غیر معمولی جذبہ اور جوش پایا جا رہا ہے اور ان شاء اللہ اس روز عوام بڑی تعداد میں اپنے آئینی اور جمہوری حق کے لیے باہر نکلیں گے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ 27 ستمبر کا اعلان واپس نہیں لیا جائے گا۔ ہم اپنے فیصلے پر قائم ہیں، پرامن احتجاج کریں گے اور اپنے آئینی، قانونی اور جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد ہر صورت جاری رکھیں گے۔
