راولپنڈی(مہم نیوز)پاک فوج کے تعلقات عامہ آئی ایس آئی آر کے مطابق پاکستان دشمن دہشتگرد عناصرملک میں بدامنی پھیلانے، عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے اورپاکستان کی ساکھ کونقصان پہنچانے کے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے سرگرم ہیں۔
تاہم پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کی مؤثر انٹیلی جنس اور بروقت کارروائیوں نے دہشتگردوں کے عزائم کو مسلسل ناکام بنا دیا ہے۔ ملک میں دہشتگردی پھیلانے والے ان عناصر کو بیرونی سرپرستی اورسہولت کاری حاصل ہے، جن میں بالخصوص بھارت اورافغانستان سے ملنے والی معاونت کے ناقابل تردید شواہد پاکستان دنیا کے سامنے پیش کر چکا ہے۔
عزمِ استحکام ویژن کے تحت اگست سے 6 ستمبر 2026 میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کے خلاف متعدد کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے ۔ ان فیصلہ کن کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 218 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے ۔
یہ کامیابیاں اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ دہشتگرد عناصر چاہے کسی بھی بیرونی پشت پناہی یا سہولت کاری کے ساتھ پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں ، پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز ان کے خلاف پوری قوت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کارروائی جاری رکھیں گی۔
بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت نوشکی، واشک، مستونگ، پنجگور، سوراب، مچھ اور خضدار سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں ، جن میں فتنہ الہندوستان کے 148 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے۔
یکم اگست کو نوشکی میں 7 دہشتگرد مارے گئے، 6 اگست کو واشک اور مستونگ میں 12 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے، جبکہ 11 اگست کو پنجگور میں 5 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔ 12 اگست کو سوراب میں 18 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے ۔
21 اگست کو مستونگ، مچھ، خضدار اور پنجگور میں ہونے والی کارروائیوں میں مزید 37 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے۔ یکم ستمبر 2026 کو پشین میں کارروائی کے دوران 21 بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگرد ہلاک کیے گئے ۔
4 ستمبر 2026 کو بلوچستان کے مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی اضلاع میں کارروائیوں کے دوران 36 بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ قلات ضلع میں الگ کارروائی کے دوران مزید 12 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے۔
کارروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں گولہ بارود اور دہشتگردی میں استعمال ہونے والے دیگرآلات بھی برآمد کیے گئے۔
خیبرپختونخوا میں بھی اگست سے 6 ستمبر کے دوران آپریشن 11 گرج کے تحت فتنہ الخوارج کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رہیں ۔اگست کے دوران صوبے میں مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 70 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے۔
یکم اگست کو رزمک، شمالی وزیرستان میں کارروائی کے دوران 5 دہشتگرد ہلاک ہوئے ۔
7 اگست کو اعظم ورسک ، جنوبی وزیرستان اور دیر ڈسٹرکٹ میں کارروائیوں کے دوران 10 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔ 8 اگست کو ہنگو میں 7 دہشتگرد مارے گئے ۔
21 اگست کو بنوں، شمالی وزیرستان، اورکزئی اور خیبر میں کارروائیوں کے دوران مزید 12 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے۔
3 ستمبر 2026 کو شمالی وزیرستان میں کارروائی کے دوران بھارتی سرپرستی یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 15 خوارج کو جہنم واصل کیا گیا۔ اسی طرح 6 ستمبر 2026 کو خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران مزید 21 خوارج ہلاک کیے گئے۔
دہشتگردی کے خلاف یہ کامیابیاں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ پاکستان کے خلاف بیرونی سرپرستی سے چلنے والی دہشتگردی کی کوششیں عوام اور سیکیورٹی فورسز کے عزم کے سامنے ناکام ہو رہی ہیں ۔
دہشتگرد عناصر کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا اور ترقی و خوشحالی کے سفر کو روکنا ہے، مگر سیکیورٹی فورسز کی مسلسل کارروائیوں نے ان کے نیٹ ورکس اورمذموم عزائم کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کارروائیوں کے دوران مقامی آبادی کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے ۔ پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے مکمل خاتمے، ملک میں پائیدار امن کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھیں گی۔
ملک دشمن شر پسند عناصر یاد رکھیں کہ پاکستان کے امن، ترقی اور خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی ہر سازش کا جواب مؤثراور فیصلہ کن کارروائی سے دیا جائے گا۔
