آٹھ ماہ قبل صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تیراہ میں خوارج کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے مقامی آبادی کو یرغمال بنا رکھا ہے، جو شہری آبادی کی آڑ میں دہشت گردی اور جبر کی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔
آبادی سے کہا گیا کہ یا تو دہشت گردوں کو اپنے درمیان سے نکالیں یا عارضی طور پر علاقہ چھوڑ دیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی ممکنہ شہری نقصان کے خطرے کے بغیر کارروائی کر سکیں۔
تیراہ کے مشران اور عمائدین نے متفقہ طور پر آبادی کی عارضی نقل مکانی کا فیصلہ کیا تاکہ علاقے کو ہدفی آپریشن کے ذریعے کلیئر کیا جا سکے۔
اس عوامی اتفاقِ رائے کے باوجود، جو معززین، سرکاری نمائندگان اور فرنٹیئر کور کی موجودگی میں طے پایا تھا،صوبائی حکومت نے بدنیتی کے تحت اس پر عملدرآمد میں دانستہ تاخیر کی۔
معاملے کو دانستہ طور پر سردیوں تک مؤخر کیا گیا تاکہ مظلومیت کا بیانیہ گھڑا جا سکے، جبکہ اسی دوران منشیات مافیا کو اپنی فصل فروخت کرنے اور اگلی فصل کی تیاری کے لیے وافر وقت دیا گیا۔
بالآخر 31 دسمبر کو خود خیبر پختونخوا حکومت نے آبادی کی عارضی نقل مکانی کی منظوری دی اور اس مقصد کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے۔
عوام کو 15 جنوری تک ضلعی انتظامیہ اور حکومت کی نگرانی میں علاقہ چھوڑنا تھا۔
اس کے باوجود انتظامیہ نے جان بوجھ کر تیراہ کے داخلی و خارجی راستوں پر رجسٹریشن کاؤنٹرز اور عملے کی انتہائی محدود تعداد تعینات کی، جس کے باعث شدید بدنظمی اور طویل قطاریں لگ گئیں۔
ان قابلِ گریز انتظامی رکاوٹوں کو بعد ازاں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تاکہ اذیت ناک مناظر دکھا کر ایک سیاسی بیانیہ تشکیل دیا جا سکے۔
اب اسی بیانیہ کو چلاتے ہوئے وزیر اعلیٰ صاحب دو مہینے بعد کچھ ہزار لوگوں کو لے کے تیراہ واپسی کے لئے فوجی پوسٹوں پے زبردستی چڑھائی کر دیں گے تاکہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے علاوہ منشیات کی فصل کو بچایا جا سکے
ہم سب کو معلوم ہے کہ عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کا انتظام مکمل طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
رجسٹریشن، کیمپس، خوراک، صحت کی سہولیات، معاوضہ اور لاجسٹکس فوج کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتے۔
رجسٹریشن پوائنٹس پر فوج کا کوئی کردار نہیں، اس کے باوجود صوبائی ناکامیوں کو سہولت کے ساتھ فوجی ناکامی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
تقریباً آٹھ ماہ تک قانون نافذ کرنے والے ادارے تیراہ کی دشوار گزار جغرافیائی صورتحال کے باعث صوبائی حکومت پر شہریوں کے انخلا کے لیے زور دیتے رہے، جہاں شدت پسند باآسانی مقامی آبادی میں گھل مل جاتے ہیں۔
حکومت نے یہ تاخیر شہریوں کی فکر میں نہیں بلکہ غیر قانونی مفادات، بالخصوص علاقے میں موجود منشیات کی معیشت کے تحفظ کے لیے کی۔
نقل مکانی کے وقت کا تعین اصل مقصد کو بے نقاب کرتا ہے۔
انخلا کو اس وقت تک مؤخر رکھا گیا جب تک منشیات کی فصل کاٹ کر منافع حاصل نہ کر لیا گیا۔جیسے ہی یہ مرحلہ مکمل ہوا، نقل مکانی کی اچانک اجازت دے دی گئی۔
یہ طرزِ عمل پی ٹی آئی کے انسانی ہمدردی کے دعوؤں کو براہِ راست جھٹلاتا ہے اور تاخیر کے پیچھے موجود معاشی محرکات کو بے نقاب کرتا ہے۔
اب وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم مختص کیے گئے 4 ارب روپے سے مالی فائدہ اٹھا رہی ہے۔یہ افراتفری اسی بدعنوانی کا مظہر ہے۔
آبادی کا انخلا شہری نقصان کو کم سے کم کرنے اور درست، انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کو ممکن بنانے کے لیے کیا گیا۔
اگر شہریوں کو نہ نکالا جاتا تو یہی سیاسی عناصر فوج پر جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات لگاتے۔مقصد شہری تحفظ تھا، محض نقل مکانی نہیں۔
اب جبکہ افیون اور بھنگ کی نئی فصل بو دی گئی ہے، یہی عناصر واپسی کے مرحلے کو بھی استعمال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، اور کسی بھی تاخیر کو،خواہ وہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہی کیوں نہ ہو ایک اور موقع بنا کر بے چینی اور پروپیگنڈے کے ذریعے دباؤ ڈالیں گے۔
یہ پورا معاملہ انسانی بحران نہیں بلکہ طرزِ حکمرانی کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔انتظامی نااہلی کو جذباتی نعروں کے پیچھے چھپایا جا رہا ہے، جبکہ شہریوں کی تکلیف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ صوبائی حکومت کے اپنے فیصلوں اور غفلت سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
پی ٹی آئی جان بوجھ کر ایک سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے آپریشن کو نام نہاد انسانی بحران کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دورانعارضی نقل مکانی ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ عمل ہے، جس کا مقصد شہریوں کا تحفظ اور جانی نقصان میں کمی ہے۔
اسے اجتماعی سزا قرار دینا فکری بددیانتی اور سیاسی مفاد پرستی کے سوا کچھ نہیں۔
