ممبر ایڈوائزری کونسل برائے اطلاعات و تعلقات ثمر ہارون بلور نجی سکول سانحہ کے زخمی بچے کی عیادت کر رہی ہیں ممبر ایڈا ئیزری کونسل برائے صحت لیفٹینٹ جنرل (ر) نگار جو ہر بھی موجود ہیں
نیشنل ایکشن پلان پر اصل روح کے مطابق عملدرآمد ناگزیر ہے، ثمر ہارون بلور
پشاور:ممبر ایڈوائزری کونسل برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق عملدرآمد ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک سانحات کی روک تھام کی جا سکے۔
غیر محفوظ تعلیمی اداروں کی نشاندہی کے لیے عوام سے تعاون کی اپیل
انہوں نے غیر محفوظ اسکولوں، مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں کی نشاندہی کے لیے عوام سے تعاون کی اپیل بھی کی ہے۔
ثمر ہارون بلور، ممبر ایڈوائزری کونسل برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر اور ممبر ایڈوائزری کونسل برائے صنعت و تجارت ڈاکٹر محمد ارشاد نے شہید بچوں کے گھر جا کر لواحقین سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر شہید بچوں کی مغفرت اور سوگوار خاندانوں کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی گئی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ حکومت اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بچے صرف اپنے والدین ہی کے نہیں بلکہ پوری قوم کے بچے تھے، اور ان کا ضیاع پورے معاشرے کا نقصان ہے۔
انہوں نے کہا کہ سانحے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور جہاں غفلت یا لاپروائی ثابت ہوئی، وہاں ذمہ دار افراد اور متعلقہ اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

ان کے مطابق اگر کسی سطح پر سیاسی دباؤ کے باعث فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی ہوئی تو اس پہلو کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ان کے بقول گزشتہ حکومت کے دور میں نیشنل ایکشن پلان کو نظرانداز کیا گیا، حالانکہ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن اور حفاظتی تقاضوں پر عملدرآمد اس حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی رجسٹریشن کے دوران عمارت کا معائنہ، ضروری دستاویزات اور حفاظتی انتظامات کی جانچ پڑتال بنیادی تقاضے ہیں، جن پر مؤثر عملدرآمد ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسکولوں اور مدارس سمیت تمام تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
عمارتوں کی حالت، رجسٹریشن، لائسنس اور دیگر قانونی دستاویزات کی جانچ میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور کوتاہی ثابت ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
گورنر ہاؤس میں سانحے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گورنر نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی ہیں اور تعلیمی اداروں کے معائنے کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
یہ ٹیمیں مختلف علاقوں میں اداروں کی عمارتوں، حفاظتی انتظامات اور ضروری دستاویزات کا جائزہ لیں گی۔
ان کے مطابق غیر محفوظ عمارتوں یا قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والے اداروں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ ضروری حفاظتی اقدامات اور تحقیقات مکمل ہونے تک ایسے اداروں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مشیرِ اطلاعات نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں خستہ حال اور غیر محفوظ اسکولوں، مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں کی نشاندہی کرکے متعلقہ حکام کو فوری اطلاع دیں تاکہ بروقت اقدامات کے ذریعے قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
علاقے میں بنیادی شہری سہولیات کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، کھلے مین ہولز اور گٹر بھی شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہیں۔
ہر شہری کو محفوظ ماحول اور بنیادی سہولیات کی فراہمی اس کا حق ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ عوامی مسائل متعلقہ فورمز پر اٹھائے جائیں گے اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور حکومت ان کی معاونت جاری رکھے گی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سانحے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

