سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت اسپتالوں کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ
خیبرپختونخوا میں 32 اسپتالوں کی بہتری کے لیے 33 ارب روپے کا منصوبہ، نئے اسپتالوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت
پشاور:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے نئے اسپتالوں کے قیام کے منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے اور محکمہ صحت کے جاری منصوبوں کے لیے ترجیحی بنیادوں پر فنڈز کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں کی بہتری کے منصوبے کے تحت کاموں کے دائرہ کار اور لاگت کی تفصیلات ایک ہفتے میں پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔
محکمہ صحت کے ترجیحی منصوبوں پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
صحت کے منصوبوں کی تکمیل میں مالی وسائل کی کمی کو رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا، جبکہ فنڈز کے استعمال، تعمیراتی و طبی معیار اور کام کی رفتار کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 33 ارب روپے کے منصوبے کے تحت صوبے کے 32 ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں کی تزئین و بحالی اور استعداد کار میں اضافے کا کام جاری ہے۔
ان اسپتالوں کو 2.5 ارب روپے مالیت کے طبی آلات فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ 29 اسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے کے ڈیزائن منظور ہونے کے بعد ٹھیکے داروں کو کام شروع کرنے کے لیے متحرک کردیا گیا ہے۔
منصوبے میں اسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، طبی آلات کے معیار اور استعداد میں اضافے، طبی خدمات کی توسیع اور دیگر ضروری اقدامات شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے تمام اسپتالوں کے کاموں، تخمینہ لاگت اور تکمیل کے مراحل سے متعلق جامع تفصیلات ایک ہفتے میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں نئے اسپتالوں کے قیام سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق کوہاٹ میں ایک ہزار بستروں پر مشتمل میڈیکل کمپلیکس کے لیے زمین کے حصول کی سمری ارسال کردی گئی ہے، جبکہ ملاکنڈ میں ایک ہزار بستروں کے اسپتال کے لیے زمین کی نشاندہی مکمل اور خریداری کا عمل جاری ہے۔
اسی طرح پشاور میں جنرل اسپتال کے قیام کے لیے ابتدائی منصوبہ بندی کی دستاویز پی سی ٹو منظوری کے لیے محکمہ منصوبہ بندی کو ارسال کردی گئی ہے۔
باڑہ میں خواتین اور بچوں کے اسپتال کے لیے زمین کے حصول کی غرض سے سیکشن فور نافذ کردیا گیا ہے، جبکہ اس منصوبے کی پی سی ٹو بھی منظوری کے لیے بھجوا دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات، جدید طبی سہولیات کی فراہمی اور ڈاکٹرز، نرسز سمیت طبی عملے کی کمی دور کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسا نظام صحت قائم کرنا چاہتی ہے جس میں شہریوں کو علاج کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر نہ کرنا پڑے اور انہیں اپنے علاقے میں معیاری طبی سہولیات میسر ہوں۔

