ویب ڈیسک:رائٹرز کے مطابق امریکاایران امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر بحران بدستور شدت اختیار کیے ہوئے ہے اور فی الحال اس کے کسی فوری حل کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
تازہ پیش رفت میں ایران نے آج منگل کے روز امریکہ کو ’’اقتصادی جنگ‘‘ کی دھمکی دی ہے۔ ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے امریکی جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک جدید میزائل داغا ہے۔
یہ صورتحال جنگ میں مزید کشیدگی کے امکانات کی نشاندہی کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چند ہی روز قبل دونوں فریقوں نے ایک بار پھر ایک دوسرے کے خلاف حملے کیے ہیں۔
گزشتہ چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران کشیدگی میں کمی کے وقفے بھی آئے، تاہم ان کے بعد دوبارہ شدید تصادم شروع ہوتا رہا۔تازہ ترین موقع پر امریکہ نے ہفتے کے روز ایرانی اہداف پر حملوں کا اعلان کیا، جب اس کی فورسز نے ایران کے تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کے روز بتایا کہ ایران نے متعدد امریکی بحری جہازوں کے خلاف اپنے حملوں میں ’’قاسم بصیر‘‘ نامی میزائل داغا۔امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوششوں کے باوجود ایران نے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم اس آبی راستے سے بحری تجارت کی آمدورفت میں رکاوٹیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔رواں ہفتے ایک بار پھر اجناس لے جانے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت سست پڑ گئی ہے۔
ایران نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں ایک نیا ممنوعہ بحری علاقہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک نئے بحری راستے کے نقشے بھی جاری کرے گا، تاہم ان تفصیلات کے اعلان کی حتمی تاریخ واضح نہیں کی گئی۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اتوار کے روز سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو میں کہا کہ نیا ممنوعہ علاقہ اس مقام سے شروع ہوگا، جہاں سے ایران پر امریکی ناکہ بندی شروع ہوتی ہے اور خلیج کے بعض حصوں تک پھیلے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی بحری جہاز اس علاقے میں داخل ہوگا، اسے ایرانی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا جائے گا۔رضائی نے آج ’’ایکس‘‘ پر ایک بیان میں اقتصادی اور فوجی دونوں محاذوں پر اپنی دھمکیاں دہراتے ہوئے کہا:گزشتہ چند دنوں میں واشنگٹن کو ایران کے نئے میزائلوں کے حوالے سے ایک واضح انتباہ موصول ہو چکا ہے۔
اقتصادی جنگ کا جواب ایک ایسے بحری ممنوعہ علاقے سے دیا جائے گا جو خلیج فارس کے راستے ناکہ بندی کے اطراف تک پھیلا ہوگا۔ امریکی جنگی بحری جہازوں اور اڈوں کے حوالے سے ہماری عملی صورتحال کو بنیادی طور پر ازسرنو متعین کر دیا گیا ہے۔رضائی غالباً ’’قاسم بصیر‘‘ بیلسٹک میزائل کی جانب اشارہ کر رہے تھے، جس کے بارے میں ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز کے قریب موجود امریکی جنگی بحری جہازوں کی جانب داغا گیا تھا۔
تاہم امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس کے جنگی بحری جہاز کسی بھی میزائل حملے سے محفوظ رہے اور انہوں نے میزائل حملوں سے بچاؤ کیا۔میزائل ’’قاسم بصیر‘‘ایران نے میزائل’’قاسم بصیر‘‘ کو ایک جدید اور ترقی یافتہ میزائل کے طور پر پیش کیا ہے، جس میں بہتر انداز میں نقل و حرکت اور سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جس کی مدد سے وہ میزائل دفاعی نظام کو چکما دے سکتا ہے۔ اس میں الیکٹرانک جنگ کے دوران مؤثر انداز میں کام کرنے والا جدید رہنمائی نظام بھی نصب ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’فارس‘‘ کے مطابق اس میزائل کا پہلا جنگی استعمال جون 2025 میں اسرائیل کے خلاف کیا گیا تھا۔بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ کم ہو سکتا ہے، ایسے وقت میں جب اس کے لیے نئی اور سخت امریکی اقتصادی پابندیوں کو برداشت کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
جنگ سے قبل دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی تھی۔
اس صورتحال نے ایران کو خلیجی ممالک کے ان ٹینکروں کو دھمکانے کی صلاحیت فراہم کی جو تیل اور گیس برآمد کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
جنگ شدت اختیار کرنے کے ساتھ توانائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا:جب ہم ایران کے ساتھ جنگ جیت جائیں گے تو تیل کی قیمتیں، بالکل ہر دوسری چیز کی طرح، بہت تیزی سے کم ہوں گی، بلکہ اس سے بھی زیادہ نیچے جائیں گی! فی گیلن 3 ڈالر، لیکن آخرکار یہ 2 ڈالر فی گیلن سے بھی کم ہو جائے گی۔ یہ سب کچھ بہت تیزی سے ہوگا اور ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔
