اسلام آباد(مہم نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت پیٹرول کی قیمت کم کرتی ہے تو ٹھیک، ورنہ ہم بہت آگے کا پلان رکھتے ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے 2 دن کے بعد مذاکرات رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پیٹرول قیمت میں اضافے اور لیوی کے خلاف دھرنے دیے ہیں، لیوی اور کچھ ٹیکس ہٹائے جائیں تو پیٹرول کی قیمت میں 106 روپے کمی ہوسکتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ عالمی قیمتیں اپنی جگہ لیکن لیوی تو حکومت نے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے لگائی ہوئی ہے، 1567 ارب روپے کی پٹرولیم لیوی ایک سال میں حکومت نے جمع کی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے اضافہ کرکے بڑا ظلم کیا ہے لیوی میں کمی کی جاسکتی تھی، اگر یہ پیٹرول کی قیمت کم کرتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ ہم بہت آگے کا پلان رکھتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ بظاہر حکومت کے خلاف ہوتے ہیں اور ہمارے دھرنے پر تنقید کرتے ہیں تو یہ درست نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اس احتجاج میں اپوزیشن بھی شریک ہو۔
انہوں نے کہا کہ لیوی کا پیٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کو ختم کیا جائے، ہمارا احتجاج صرف عوام کے مسئلے کے لیے ہے، ذاتی یا سیاسی فائدے کے لیے نہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اگر یہ ہمارے مطالبات مانتے ہیں تو ٹھیک ہے، نہیں مانتے تو ہم تمام آپشنز استعمال کریں گے، حکومتی ٹیم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں پھنسے ہوئے ہیں لیوی ختم نہیں کرسکتے۔
اُن کا کہنا تھا کہ حکومتی ٹیم نے کہا کہ آئی ایم ایف اہداف پورے کرنے پر مجبور کرتا ہے، کچھ تجاویز دی ہیں، جن کے نتیجے میں لیوی ختم کی جاسکتی ہے، پالیسی ریٹ 3 فیصد کم کرنے سے 16 سو ارب روپے سے زیادہ کا اثر پڑے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جس دن دھرنا شروع کیا اے این پی کے میاں افتخار ہمارے دھرنے میں شریک ہوئے تھے، بیرسٹر گوہر نے بھی اس احتجاج میں جماعت اسلامی کو سپورٹ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے سندھ کے دورے میں حیدرآباد میں ہمارے دھرنے سے خطاب کیا، تمام سیاسی جماعتوں سے درخواست کریں گے کہ یہ عوامی مسئلہ ہے اس کو سپورٹ کریں۔
اُن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی انتظامی یونٹس بنانے کے حق میں ہے، یہ ہمارے منشور میں ہے، انتظامی یونٹس بنانے کے لیے شرط یہ ہے کہ عوامی اعتماد اور آئین کے مطابق ہوں۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ انتظامی یونٹس بنانے کے لیے بڑی سطح پر مشاورت ہونی چاہیے، سندھ میں اس معاملے پر حساسیت ہے تو بغیر قومی ڈائیلاگ کے یہ معاملہ شروع کیوں کیا گیا۔
