ایران اس وقت دوہری جنگ لڑ رہا ہے — ایک اسرائیل-امریکہ کے خلاف، اور دوسری اپنے ہی ایوانوں میں۔ بندوقوں کی گھن گرج میں سب سے اونچی کرسی پر بیٹھے شخص، صدر مسعود پزشکیان کی آواز سب سے دھیمی ہے۔ سوال اٹھتا ہے: صدر خاموش کیوں ہیں؟ کیا پاسدارانِ انقلاب کو ان پر بھروسہ نہیں؟
صدر خاموش نہیں، بے آواز کر دیے گئے ہیں
پزشکیان بول رہے ہیں۔ 21 اپریل 2026 کو انہوں نے کہا: "سفارتکاری کے تمام راستے آزمانے چاہییں، مگر امریکہ پر بھروسہ خودکشی ہے”۔ انہوں نے ٹرمپ کو للکارا: "تم کون ہوتے ہو ایک قوم کو اس کے حقوق سے محروم کرنے والے؟”۔
مسئلہ یہ نہیں کہ وہ بول نہیں رہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان کی کوئی سن نہیں رہا۔ 28 فروری 2026 کو سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کا آئینی ڈھانچہ ہل گیا۔ 8 مارچ کو ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈر بنے، مگر وہ "چھپے ہوئے ہیں”۔ ان کی غیر موجودگی نے وہ خلا پیدا کیا جسے پاسدارانِ انقلاب نے پر کر دیا۔
"خاموش فوجی بغاوت” — جب IRGC نے حکومت لے لی
ایران میں صدر ہمیشہ سے کمزور عہدہ رہا ہے۔ خارجہ پالیسی، جنگ، جوہری پروگرام — یہ سب سپریم لیڈر اور پاسداران کے پاس ہوتے ہیں۔ مگر جنگ نے یہ توازن بھی توڑ دیا۔
تین واقعات نے صدر کو بے اختیار کر دیا:
معافی پر ڈانٹ پزشکیان نے خلیجی ملکوں پر ایرانی حملوں کی معافی مانگی۔ سینئر پاسداران بھڑک اٹھے۔ رائٹرز کے مطابق "انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا گیا”۔
وزیر کی تقرری روک دی : پزشکیان نے نیا وزیرِ انٹیلی جنس لگانا چاہا۔ IRGC کمانڈر احمد وحیدی نے مداخلت کر کے تقرری رکوا دی۔ پیغام صاف تھا: "جنگ میں حساس عہدے سپاہ کے پاس رہیں گے”۔
"تین رکنی کونسل” کا خاتمہ: خامنہ ای کی شہادت کے بعد پزشکیان ایک عبوری کونسل کا حصہ تھے۔ مگر ذرائع کہتے ہیں "اب پاسداران ہی ایران چلا رہے ہیں”۔
علی خامنہ ای زندہ ہوتے تو IRGC کو قابو میں رکھتے تھے۔ وہ سپاہ کے نظریات کو سیاسی اور مذہبی اشرافیہ کے ساتھ متوازن کر لیتے تھے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس وہ دینی سند نہیں، وہ تجربہ نہیں۔ وہ "اپنا عہدہ پاسداران کے مرہونِ منت ہیں”۔ اس لیے اب سپاہ کو روکنے والا کوئی نہیں۔
. پاسداران کو پزشکیان پر بھروسہ کیوں نہیں؟
امریکی حکام نے اپریل 2026 میں کہا کہ ایران کی حکومت "شدید تقسیم” ہے:
سپاہ گروپ: کمانڈر احمد وحیدی۔ مؤقف: "سمندری ناکہ بندی جاری ہے تو کوئی رعایت نہیں۔ امریکہ سے بات بے فائدہ۔”
سویلین گروپ:وزیر خارجہ عراقچی + اسپیکر قالیباف۔ مؤقف: "جنگ بندی بڑھاؤ، معاہدہ کرو، معیشت بچاؤ۔”
پزشکیان کا شمار سویلین گروپ میں ہوتا ہے۔ وہ اصلاح پسند ہیں۔ کہتے ہیں "جنگ سے بچنا عالمی امن کا اصول ہے”۔ یہی جملہ IRGC کے لیے "کمزوری” ہے۔
بھروسے کی کمی کی 3 وجوہات:
- نظریاتی : IRGC کا عقیدہ ہے "امریکہ شیطانِ بزرگ ہے، بات صرف گولی کی زبان میں”۔ پزشکیان سفارتکاری کی بات کرتے ہیں۔
- تاریخی: 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد بھی IRGC نے حکومتی فیصلوں کو نظر انداز کیا۔ انہیں لگتا ہے سویلین قیادت "دشمن کو رعایت دے دے گی”۔
- طاقت: جنگ نے IRGC کو ہیرو بنا دیا۔ وہ شہروں کی حفاظت کر رہے ہیں، میزائل چلا رہے ہیں۔ صدر صرف بیان دے رہے ہیں۔ طاقت بندوق میں ہے، مائیک میں نہیں۔
- تو پھر عراقچی کیوں آگے؟
اسی لیے عراقچی اسلام آباد میں ہیں اور صدر تہران میں خاموش۔ اسرائیل نے عراقچی کو ہٹ لسٹ سے نکالا تاکہ "بات کرنے والا کوئی بچے”۔ صدر کو IRGC بولنے نہیں دے رہا، اس لیے وزیر خارجہ کو محاذ پر بھیجا گیا۔
مگر یہ بھی IRGC کی مرضی سے ہو رہا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی خاموشی "فالج” پیدا کر رہی ہے — کوئی بھی IRGC کو اوور رول نہیں کر سکتا۔ اس لیے عراقچی کی "خطرناک سفارتکاری” دراصل IRGC کی اجازت سے ہو رہی ہے۔ وہ "کٹ آؤٹ” ہیں: کامیابی کی صورت میں IRGC کریڈٹ لے گا، ناکامی پر عراقچی قربان ہو جائیں .
مسعود پزشکیان غدار نہیں، آئینی یرغمال ہیں۔ ایران کا نظام "ولایتِ فقیہ” ہے، "صدارتی” نہیں۔ جنگ نے رہی سہی جمہوریت بھی کھا لی۔
پاسداران کو ان پر بھروسہ نہیں کیونکہ بھروسہ طاقت سے مشروط ہوتا ہے۔ آج طاقت IRGC کے پاس ہے۔ وہ صدر کو "نرم خو”، "معافی مانگنے والا”، "امریکہ سے ڈرنے والا” سمجھتے ہیں۔ جنگ میں ایسی قیادت بوجھ ہوتی ہے۔
اسے ایرانی تجزیہ کار "خاموش فوجی بغاوت” کہتے ہیں۔ نہ ٹینک نکلے، نہ اعلان ہوا۔ بس فیصلے کا اختیار بندوق والوں کے پاس چلا گیا۔ صدر ایوان میں بیٹھے ہیں، مگر حکومت بیرک میں ہو رہی ہے۔
تاریخ بتائے گی کہ یہ ایران کو بچائے گا یا تباہ کرے گا۔ فی الحال، صدر کی خاموشی چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ تہران میں اب "جمہور” نہیں، "سپاہ” بولتی ہے۔
#Iran
IRGC
Pakistan
#America
#MiddleEastCrisis
