اسلام آباد(مہم نیوز)پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیر انتظام وفاقی دارالحکومت میں قائم کینسر ہسپتال نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اور ریڈیوتھراپی انسٹیٹیوٹ (نوری) میں پاکستان میں پہلی مرتبہ ورلڈ ریڈیوتھیر پی سے آگاہی کے دن کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر شکیل عباس روفی، ممبر (سائنس)، پی اے ای سی مہمان خصوصی تھے۔
انہوں نے پی اے ای سی کے 20 اٹامک انرجی کینسر ہسپتالوں خصوصاً نوری کو کینسر کے مریضوں کی خدمت میں کلیدی کردار پر خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے نوری کو آئی اے ای اے کا "اینکر سینٹر” قرار دیے جانے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور زور دیا کہ نوری دیگر کینسر مراکز کو بھی اپنی مہارت منتقل کرے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو تقریباً 200 لینیئر ایکسلریٹرز کی فوری ضرورت ہے، اور چونکہ ہر مشین کی قیمت تقریباً 65 کروڑ روپے ہے، اس لیے زر مبادلہ کی خاطر خواہ بچت کے لیے مقامی سطح پر ان کی تیاری ناگزیر ہو چکی ہے۔
اس سے قبل نوری کی ڈائریکٹر اور چیف آنکولوجسٹ ڈاکٹر حمیرا محمود نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ ریڈیوتھراپی کینسر کے علاج کی سب سے اہم نان سرجیکل طریقہ علاج ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً ہر کینسر مریض کو، بشمول ایک تہائی بچوں کو، علاج کے کسی نہ کسی مرحلے پر ریڈیو تھیرپی کی ضرورت پڑتی ہے۔
انہوں نے عالمی ادارہ صحت اور انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر سال کینسر کے تقریباً 1,95,000 نئے کیسز سامنے آتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر 70 فیصد کیسز کم آمدنی والے ممالک میں ہوتے ہیں جہاں صرف 30 فیصد مریضوں کو ریڈیو تھیرپی کی سہولت میسر ہے۔
ڈاکٹر حمیرا نے حاضرین کو بتایا کہ نوری میں ٹیومر کی ٹریکنگ کیلیے جدید ترین 4ڈی سیمیولیشن اور پاکستان کی واحد ایم آر بیسڈ امیج گائیڈڈ براکی تھیرپی کی سہولت موجود ہے۔
اس کے علاوہ جدید ترین سائبر نائف، پیٹ سکین، ڈیجیٹل میموگرافی پی سی آر لیبس، بلڈ بینک، ٹیومر بورڈز، اور ٹیلی میڈیسن نیٹ ورکس کی سہولت موجود ہے۔
تقریب کے دوران "ریڈیوتھیرپی: کینسر کے علاج کا بنیادی ستون” کے عنوان سے پوسٹر مقابلہ بھی منعقد ہوا، جس کے بعد آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔آخر میں مہمان خصوصی نے نوری میں ایک جدید ڈیکسا اسکینر مشین کا افتتاح بھی کیا۔
ورلڈ ریڈیوتھیرپی آگاہی دن، جو کہ عالمی سطح پر پہلی بار 7 ستمبر 2025 کو منایا گیا، اس دن کی یاد میں منایا جاتا ہے جب ایک مریض کا علاج پہلی بار لینیئر ایکسلریٹر سے کیا گیا تھا۔
اس سال کا موضوع تھا: "ریڈیوتھراپی کے لیے ایک آواز” — جو کینسر کے محفوظ اور جدید علاج تک برابری کی سطح پر رسائی کو ممکن بنانے کا مطالبہ کرتا ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں، جہاں بنیادی ڈھانچے اور تربیت یافتہ عملے کی شدید کمی ہے۔

