وزیر اعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بنوں کا دورہ کیا اور جنوبی وزیرستان آپریشن میں 12 بہادر شہداء کی نماز جنازہ میں بھی شرکت اور بنوں CMH میں زخمیوں کی عیادت کی تاہم حیران کن طور پر صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی نمائندہ اس موقع پر موجود نہ تھا۔
پشاور(مہم نیوز)کے مطابق وزیراعظم اور فوجی قیادت کو موجودہ صورتحال، امن و امان کے مسائل اور عوامی مشکلات پر بریفنگ دی گئی، مگر صوبائی کابینہ یا وزیراعلیٰ کے پی کی غیر حاضری نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

ایاد رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا اس وقت دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے وقت میں صوبائی حکومت کی غیر موجودگی کو مبصرین سنجیدہ غفلت قرار دے رہے ہیں۔

اجلاس میں وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہادہشت گردی کا بھرپور جواب جاری رہے گا اور اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام برداشت نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے دہشت گردوں کے سرغنہ اور سہولت کار افغانستان میں ہیں اور ان کی پُشت پناہی ہندوستان کر رہا ہے۔

دہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے شامل ہیں جو افغانستان سے پار آ کر پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔ غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کا جلد انخلا انتہائی اہم ہے۔
پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے پر سیاست اور گمراہ کن بیانیے کو مکمل طور پر رد کرتی ہےجو بھی خارجیوں اور ہندوستان کی دہشت گرد پراکسیوں کی سہولت کاری اور معاملہ فہمی کی بات کرتا ہے وہ انہی کا الہ کار ہے اور اُسے بھی اسی زبان میں جواب دیا جائے گا جس کا وہ حق دار ہے۔

پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے غیور عوام، ریاست اور افواج پاکستان کے ساتھ ملکر ہندوستان کی ان پراکسیوں کے خلاف بنیان مرصوص کی طرح متحد ہیںدہشت گردی کے خلاف مزید مؤثر جواب دینے کے لئے جو ضروری انتظامی اور قانونی اقدامات کرنے پڑے وہ فوراً کریں گے۔

