خیبرپختونخوا کی سرکاری جامعات کے تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی مسائل پر کانفرنس
خیبرپختونخوا کی سرکاری جامعات کو درپیش تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی مسائل کے حل کے لیے وائس چانسلرز کانفرنس منعقد
خیبرپختونخوا کی سرکاری جامعات کو درپیش تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی چیلنجز کا جائزہ لینے، ادارہ جاتی اصلاحات کو مؤثر بنانے اور جامعات کے مالی استحکام کے لیے قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنے کی غرض سے وائس چانسلرز کانفرنس جمعرات کے روز جامعہ پشاور میں منعقد ہوئی۔
ممبر ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم خیبرپختونخوا ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کانفرنس میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
کانفرنس میں سیکریٹری اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز عابداللہ کاکاخیل، سپیشل سیکریٹری فضل حسین،ڈائریکٹر کوالٹی ایشورنس اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر عمران اللہ مروت، صوبے بھر کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز اور دیگر انتظامی افسران نے بھی شرکت کی۔
کانفرنس کا بنیادی مقصد سرکاری جامعات کو درپیش اہم مسائل کی نشاندہی اور اجتماعی مشاورت کے ذریعے ان کے حل کے لیے مؤثر اور قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنا تھا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممبر ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا کہ جامعات میں طلبہ کی بنیادی ضرورت اور مقصد تعلیم کا حصول اور علم سیکھنا ہے،اس لیے انہیں ایسا ماحول فراہم کیا جانا چاہیے جو ان کی تعلیمی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کی بہتر تربیت کے لیے ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ جامعات میں اپنے وقت کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جامعات کے کیمپسز میں کسی بھی قسم کی منفی سرگرمی کے لیے حکومت کی جانب سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے، لہٰذا جامعات کی انتظامیہ کو بھی اس ضمن میں کسی قسم کی رعایت نہیں دینی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ جامعات کے کیمپسز کو ہر قسم کی منفی سرگرمیوں سے پاک رکھا جائے۔
ممبر ایڈوائزری کونسل نے کہا کہ جامعات اپنی مالیاتی گورننس کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دیں کیونکہ ان کے داخلی آڈٹ کے نظام کی موجودہ صورتِ حال تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے جامعات کے ہاسٹلز میں طلبہ کے لیے معیاری رہائشی سہولیات کی فراہمی اور موجودہ سہولیات کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی۔
ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا کہ جامعات کے کیمپسز کو منشیات کی لعنت سے پاک کیا جائے۔ اگر اس سلسلے میں کسی جامعہ کو ضلعی انتظامیہ یا پولیس کے تعاون کی ضرورت ہو تو متعلقہ حکام کو فوری طور پر مطلع کیا جائے تاکہ ضروری معاونت فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے کانفرنس کے مختلف ورکنگ گروپس میں شامل ماہرین پر زور دیا کہ وہ ایسی سفارشات مرتب کریں جو قابلِ عمل ہوں اور جن پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا جا سکے۔
اعلیٰ تعلیم کے حصول اور دنیا میں جامعاتی نظام کے مختلف ادوار کا ذکر کرتے ہوئے ممبر ایڈوائزری کونسل نے کہا کہ ہمارا خطہ قدیم زمانے سے علمی زرخیزی کا مرکز رہا ہے، جہاں گپتا اور موریہ سلطنتوں کے ادوار میں علمی و تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ ملا اور نالندہ اور ٹیکسلا (تکشیلہ) جیسے عظیم تعلیمی مراکز قائم رہے۔ ان درس گاہوں میں مختلف علمی موضوعات پر بحث و مباحثے اور اظہارِ خیال کی آزادی کو اہمیت حاصل تھی۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی تاریخ میں جامعہ القرویین جیسی درس گاہوں نے بھی علم و تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دور میں تراجم، حجاز اور بیت الحکمت جیسے علمی و تحقیقی مراکز اور تصورات نے علم کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ علمی سفر کے اگلے مرحلے میں قرونِ وسطیٰ کا دور آیا، جب ڈگری کے تصور کو فروغ ملا جبکہ برطانوی دور میں ایسا تعلیمی نظام اور ماڈل متعارف کرایا گیا جس کے اثرات آج بھی ہمارے تدریسی نظام میں نمایاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جامعاتی نظام کا چوتھا مرحلہ جدید دور کی جامعات سے متعلق ہے۔ دنیا کی ممتاز جامعات کو مستحکم اور نمایاں بنانے میں ان کے مالیاتی نظام کا اہم کردار ہے۔
ایسی جامعات اپنے مالی وسائل کو مستحکم بنانے کے لیے مختلف ذرائع اختیار کرتی ہیں تاکہ وہ مالی انحصار کم کرکے تحقیق، تعلیمی ترقی اور مسابقت کے تقاضوں کو بہتر انداز میں پورا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ دور انڈوومنٹ فنڈز، تحقیق اور مسابقت کا دور ہے۔
ممبر ایڈوائزری کونسل نے جامعات کے حکام پر زور دیا کہ وہ جامعاتی نظام کی ترقی کے اس جدید مرحلے سے ہم آہنگ ہونے کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور مالیاتی استحکام، تحقیق اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
انہوں نے وائس چانسلرز کانفرنس کو جامعات کے بنیادی مسائل پر غور و خوض اور قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنے کا ایک اہم موقع قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے کسی کنسلٹنٹ ادارے کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی تھیں،تاہم جامعات کے تجربہ کار ماہرین کی جانب سے اجتماعی مشاورت کے ذریعے سفارشات مرتب کرنے کی یہ کوشش جامعات کی کارکردگی،تعلیمی سرگرمیوں اور گورننس کے نظام کو بہتر بنانے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
کانفرنس سے وائس چانسلر جامعہ پشاور پروفیسر ڈاکٹر جوہر علی، سیکریٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم عابداللہ کاکاخیل اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی خطاب کیا۔
کانفرنس کے مختلف ورکنگ گروپس نے جامعات کو درپیش تعلیمی و انتظامی مسائل، گورننس میں بہتری، اصلاحات، ہراسانی سے متعلق پالیسی کے نفاذ، منشیات کے خاتمے، مالیاتی مسائل، انڈوومنٹ فنڈز کے قیام و استحکام اور ایلومنائی ایسوسی ایشنز کو فعال بنانے سمیت اہم امور پر غور کیا اور ان کے حل کے لیے اپنی تجاویز اور آرا پیش کیں۔

