صبح کے وقت جب ایک مزدور اپنے گھر سے روزی کی تلاش میں نکلتا ہے تو اس کے ذہن میں صرف ایک سوال ہوتا ہے کہ آج اتنا کما سکوں گا کہ شام کو بچوں کے لیے آٹا، دودھ اور سبزی خرید سکوں؟
چند سال پہلے تک زندگی مشکل ضرور تھی مگر گزارا ہو جاتا تھا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ متوسط طبقہ بھی روزمرہ اخراجات کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔ بازار جائیں تو ہر ہفتے نئی قیمت سننے کو ملتی ہے۔ کبھی آٹے کی قیمت بڑھ جاتی ہے، کبھی چینی غائب ہو جاتی ہے اور کبھی پیٹرول مہنگا ہونے کی خبر پورے بازار کا نقشہ بدل دیتی ہے۔
پاکستان اس وقت جن مسائل سے گزر رہا ہے، ان میں مہنگائی سب سے سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ روز بروز بڑھتی ہوئی اشیائے خورونوش کی قیمتیں، بجلی اور گیس کے بھاری بل، اور اب مسلسل بڑھتی ہوئی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایک چیز مہنگی نہیں کرتا بلکہ اس کے اثرات پورے نظام پر پڑتے ہیں۔ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، سبزی، آٹا، چینی اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بھی اوپر چلی جاتی ہیں۔ یوں ایک فیصلے کا بوجھ براہِ راست عوام کی جیب پر آ گرتا ہے۔
گزشتہ دنوں راولپنڈی کے ایک رکشہ ڈرائیور سے بات ہوئی۔ اس کا کہنا تھا کہ پہلے وہ روزانہ کچھ نہ کچھ بچا لیتا تھا، مگر اب پیٹرول ڈلوانے اور گھر کا خرچ پورا کرنے کے بعد جیب خالی رہ جاتی ہے۔ اس کی بات سن کر اندازہ ہوا کہ مہنگائی صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ لاکھوں گھروں کی روزمرہ پریشانی بن چکی ہے۔ ایک عام آدمی کی زندگی اب حساب کتاب میں گزرنے لگی ہے۔ کون سی چیز خریدنی ہے اور کون سی چھوڑنی ہے، یہ فیصلہ بھی آسان نہیں رہا۔
اصل مسئلہ صرف مہنگائی نہیں بلکہ آمدن اور اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔ تنخواہ دار طبقہ ہو یا چھوٹا کاروباری، ہر شخص یہی شکایت کرتا دکھائی دیتا ہے کہ آمدنی وہیں کھڑی ہے مگر اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ایک شخص کی کمائی سے پورا گھر چل جایا کرتا تھا، مگر آج دو افراد کمانے کے باوجود گھر کا بجٹ سنبھالنا مشکل ہو چکا ہے۔ والدین اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر غریب آدمی ہوتا ہے، کیونکہ اس کے پاس نہ تو بچت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا سہارا۔ مہنگائی صرف جیب پر اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ انسان کی ذہنی کیفیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔جب ایک باپ اپنے بچوں کی خواہشات پوری نہ کر سکے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے، اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں بے چینی، مایوسی اور اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے اکثر کہا جاتا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے مقامی قیمتیں بڑھانا مجبوری ہے۔ یہ دلیل اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، لیکن عوام کا سوال بھی غلط نہیں کہ آخر ہر بار قربانی صرف عام آدمی ہی کیوں دے؟ ملک کے حکمران، وزراء اور اعلیٰ ادارے کیا واقعی اپنی مراعات کم کرنے کے لیے تیار ہیں؟ عوام جب بجلی اور گیس کے بل ہاتھ میں لیتے ہیں تو انہیں یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ بوجھ صرف انہی کے حصے میں آیا ہے۔
تنقید اپنی جگہ ضروری ہے، مگر صرف تنقید سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت سنجیدہ اور دیرپا معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ عارضی اقدامات کے بجائے مستقل پالیسیوں پر توجہ دے۔ سب سے پہلے غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کیے جائیں، حکومتی مراعات میں کمی لائی جائے اور ٹیکس نظام کو منصفانہ بنایا جائے تاکہ بوجھ صرف عام آدمی پر نہ پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی صنعت، زراعت اور چھوٹے کاروبار کو سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں بار بار اضافے کے بجائے حکومت کو متبادل توانائی کے ذرائع پر توجہ دینی چاہیے۔ عوامی ٹرانسپورٹ کا بہتر نظام متعارف کرایا جائے تاکہ عام آدمی کم خرچ میں سفر کر سکے۔ اگر ریاست عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو مہنگائی کے اثرات کسی حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم بھی اپنی ترجیحات پر غور کرنا ہوگا۔ فضول خرچی، دکھاوے اور غیر ضروری اخراجات نے بھی ہماری مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ اگر حکومت اصلاحات کرے اور عوام بھی سادگی کو اپنائیں تو حالات میں بہتری آ سکتی ہے۔ قومیں صرف حکومتوں سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور سے ترقی کرتی ہیں۔
پاکستان وسائل سے محروم ملک نہیں، مسئلہ صرف بہتر منصوبہ بندی اور دیانتدارانہ نظام کا ہے۔ اگر نیت درست ہو اور فیصلے عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں تو حالات بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ عوام کو صرف نعروں کی نہیں بلکہ عملی ریلیف کی ضرورت ہے۔ کیونکہ خالی تقریروں سے نہ چولہا جلتا ہے اور نہ ہی بچوں کی بھوک ختم ہوتی ہے۔
آج اگر مہنگائی کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ معاشرتی سکون بھی متاثر ہوگا۔ امید یہی ہے کہ اربابِ اختیار عوام کی مشکلات کو محسوس کریں گے اور ایسے اقدامات کریں گے جن سے لوگوں کی زندگی آسان ہو، مزید مشکل نہیں۔
