چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس ہر پاک فوج اور فیلڈ مارشل پر ایک بار پھر الزام لگایا ہے کہ سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر نے ملک بدترین آمریت مسلط کیے ہوئے ہیں جوکہ سراسر جھوٹ اور پروپیگنڈے پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک اس وقت سیاسی نعرہ بازی یا الزام تراشی سے زیادہ مستحکم اداروں اور عوامی خدمت کا متقاضی ہے۔ اس موقع پر پاک فوج اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہی ہے کہ وہ عوام کی سب سے بڑی سہارا ہے۔عمران خان ایک بار پھر عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے 9 مئی کو ہوا تھا۔ اُس دن ریاستی املاک پر حملے ہوئے، شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ بدقسمتی سے آج دوبارہ عمران خان اپنے بیانات میں اداروں کو بدنام کر کے عوام کو فوج سے لڑوانا چاہتے ہیں۔ ان کی تازہ مہم میں وہ ایک بار پھر فیلڈ مارشل کے کردار پر کیچڑ اچھالنے پر تُلے ہوئے ہیں، حالانکہ اس کا براہِ راست نقصان پاکستان کو ہوگا۔ اگر ریاستی ادارے کمزور ہوں گے تو اس کا فائدہ صرف دشمن قوتوں کو ہوگا، عوام اور ملک کو نہیں۔ایک طرف بانی پی ٹی آئی ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی سے باز نہیں آتے تو دوسری طرف خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت آئے روز کرپشن اسکینڈلز میں گھری نظر آتی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں پٹواریوں کی بھرتیوں میں مبینہ کرپشن، غیر قانونی بھرتیاں اور کروڑوں روپے کی کک بیکس، محکمہ صحت میں اربوں روپے کی خورد برد، اوقاف میں مساجد و مدارس کے فنڈز کی لوٹ مار اور میونسپل ایڈمنسٹریشن مردان میں اسٹریٹ لائٹس اور واٹر کولرز کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں، ان سب نے شفافیت کے دعووں کی حقیقت کھول کر رکھ دی ہے۔ عوامی خدمت کے نام پر بننے والی حکومت عوامی پیسہ لوٹنے میں مصروف ہے جبکہ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔اسی طرح تعلیم کے شعبے میں بھی اقرباء پروری اور سنگین بے ضابطگیاں کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔ تورغر میں درجنوں خواتین اساتذہ کو خالی آسامیوں پر تعینات کرنے کے بعد محض چند ماہ کے اندر سیاسی دباؤ پر ایبٹ آباد، ہری پور اور مانسہرہ منتقل کر دیا گیا۔ نتیجتاً تورغر کے بیشتر اسکول عملے سے محروم ہو گئے اور طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا۔ عوامی دباؤ پر ان تبادلوں کے احکامات منسوخ تو کیے گئے مگر تدریسی عملے کی کمی اب بھی برقرار ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ تعلیم حکومتی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ضلع کرک میں بھی یہی صورتِ حال ہے جہاں ترقیاتی فنڈز عوامی منصوبوں کے بجائے نمائندوں اور افسران کی جیبوں میں چلے گئے۔ صرف 50 کروڑ روپے کے فنڈز انتظامیہ کی بدانتظامی اور تاخیری حربوں کے باعث ضائع کر دیے گئے۔ سڑکوں، اسکولوں اور واٹر سپلائی اسکیموں کے منصوبے مکمل ہونے کے بجائے کاغذی کارروائی تک محدود رہ گئے اور عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔اس سے بھی بڑا سکینڈل محکمہ تعلیم میں سامنے آیا جہاں اساتذہ کی تربیت کے لیے خریدے گئے 13,221 قیمتی ٹیبلٹس ایسے غائب ہوئے جیسے کبھی موجود ہی نہ تھے۔ کل 15,000 میں سے صرف 1,779 واپس ملے، وہ بھی اس حال میں کہ 79 خراب نکلے اور کئی کے ہینڈ فری، ایس ڈی کارڈ اور چارجر غائب تھے۔ ایک ٹیبلٹ کی اوسط قیمت 28,314 روپے بنتی ہے، یوں کل نقصان تقریباً 37 کروڑ 40 لاکھ روپے کا ہوا۔ تعلیم کے نام پر دیے گئے یہ وسائل کرپشن کی نذر ہو گئے اور آئندہ نسلوں کا مستقبل تاریک کر دیا گیا۔ایسے میں حالیہ دنوں سوات، بونیر، شانگلہ اور کوہستان میں آنے والے فلیش فلڈز نے عوام کو مزید مشکلات میں ڈال دیا۔ مکانات زمین بوس ہوئے، کھیت برباد ہوئے اور لوگ بے گھر ہو گئے۔ مگر ان مشکل لمحات میں پاک فوج ایک بار پھر عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ فوجی جوانوں نے بروقت ریسکیو اور ریلیف آپریشن شروع کیا، متاثرہ علاقوں میں خوراک، خیمے اور ادویات پہنچائیں، اور کھلے آسمان تلے بیٹھے متاثرین کے لیے فوری امداد فراہم کی۔ فوجی دستے ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور پلوں کو بحال کرنے میں بھی دن رات مصروف ہیں تاکہ متاثرہ عوام دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔دوسری طرف صوبے کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور سیلاب کے وقت میں بھی سیاسی جلسوں اور ریلیوں میں مصروف تھا۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے جلسے میں ان کی شرکت نے یہ واضح کر دیا تھا کہ صوبائی حکومت کی ترجیح سیاست ہے نہ کہ عوامی خدمت۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جب سیاست دان اقتدار کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں، تب بھی فوجی جوان اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام آج جس ہاتھ کو دعاؤں میں یاد کر رہے ہیں، وہ پاک فوج کا ہاتھ ہے۔ یہی حقیقت ہے کہ عوام کی نجات سیاست نہیں بلکہ ادارے کی خدمت سے وابستہ ہے، اور پاک فوج اپنی قربانیوں سے اس کا عملی ثبوت دیتی چلی آ رہی ہے۔عمران خان اور پی ٹی آئی سے مودبانہ درخواست ہے کہ اپنی نااہلی اور ملک سے نفرت کو ان طعنوں اور بیانات کے پیچھے نہ چھپائیں۔ یہ بات ذہن نشین کرلیں کے پاکستان کی عوام آپ کے اس جھوٹے پروپیگنڈے اور بیانات میں نہیں آنے والے۔ عوام آپ کے جھوٹ اور پروپیگنڈے سے بخوبی واقف ہے۔
