فلاي دبئی کی پرواز FZ1073، جو دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی، کاک پٹ میں دونوں پائلٹوں کے درمیان مبینہ طور پر ہونے والی شدید لڑائی کے بعد سعودی عرب کے شہر تبوک کی طرف موڑ دی گئی۔
تمام تقریباً 174 مسافر، جن میں 27 بچے اور بڑی تعداد میں اسرائیلی شہری شامل تھے، محفوظ ہیں۔
بوئنگ 737 میکس 8 طیارہ تقریباً 34,000 فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا کہ شمال مغربی سعودی عرب کے اوپر اچانک تقریباً 17,000 فٹ نیچے آیا۔ اس دوران طیارے کی بلندی اور رفتار میں بھی کئی بار اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
طیارے کے ٹرانسپونڈر نے پہلے 7700 کوڈ استعمال کیا، جو عمومی ہنگامی صورتحال کی علامت ہے۔ اس کے بعد مختصر وقت کے لیے 7500 کوڈ استعمال کیا گیا، جو ہائی جیکنگ یا غیر قانونی مداخلت کی نشاندہی کرتا ہے، پھر دوبارہ 7700 کوڈ استعمال کیا گیا اور طیارہ بحفاظت تبوک میں اتر گیا۔
7500 کوڈ فعال ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے فوری ردعمل دیا اور اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیارے فضا میں بھیجے گئے۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع نے بھی صورتحال پر مشاورت کی۔ بعد میں واضح ہوا کہ یہ سکیورٹی خطرہ نہیں بلکہ کاک پٹ کے اندر پیش آنے والا ایک واقعہ تھا۔
اسرائیلی میڈیا میں مسافروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کاک پٹ سے چیخ و پکار سنائی دی، کاک پٹ کا دروازہ کھلا تو اندر خون نظر آیا، جبکہ ایک پائلٹ کو مبینہ طور پر جیب میں موجود چھوٹی چھری سے زخمی کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی۔ اچانک طیارہ نیچے جانے سے مسافروں میں شدید خوف پھیل گیا، جبکہ عملے اور بعض مسافروں نے ایک شخص کو قابو کرنے میں مدد کی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق کپتان روسی اور فرسٹ آفیسر یوکرینی تھا، تاہم فلاي دبئی نے پائلٹوں کی قومیت یا ناموں کی تصدیق نہیں کی۔
اسرائیلی میڈیا کے بعض ذرائع، خصوصاً چینل 14، نے قیاس کیا ہے کہ ممکنہ طور پر ایک پائلٹ نے طیارے کو جان بوجھ کر نیچے لے جانے کی کوشش کی، تاہم کسی سرکاری ادارے نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ واقعے کی وجہ، ممکنہ محرکات اور زخمیوں کی درست تفصیلات ابھی زیرِ تفتیش ہیں۔
فلاي دبئی نے کہا ہے کہ پرواز کو دورانِ سفر ایک واقعے کا سامنا کرنا پڑا اور مسافروں کو منزل تک پہنچانے کے لیے دبئی سے متبادل طیارہ بھیجا جا رہا ہے۔
طیارے کے تبوک میں اترنے کے بعد سعودی سکیورٹی اہلکار بھی وہاں موجود تھے۔ واقعے کی تحقیقات فلاي دبئی اور سعودی و اسرائیلی حکام کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔
