پشاور(مہم نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی کابینہ سے منظور شدہ پارلیمنٹیرینز پرولیجز بل کا مسودہ صوبائی اسمبلی بھجوایا گیا تھا، جہاں اس میں بعض ترامیم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ترامیم پر گزشتہ دو،تین روز سے میڈیا میں مسلسل تنقید ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کی سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں انہوں نے سپیکر کو ہدایت کی ہے کہ صوبائی اسمبلی میں موجود تمام پارلیمانی لیڈرز کا اجلاس بلایا جائے اور جن نکات پر خیبرپختونخوا کے عوام اور صحافی برادری کو اعتراضات ہیں، ان کا تفصیلی جائزہ لے کر ضروری نظرثانی کی جائے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ آزادی اظہارِ رائے کو فروغ دیا اور وہ چاہتے تھے کہ صحافی جہاں ضروری سمجھیں، کھل کر تنقید کریں۔
انہوں نے کہا کہ مجھ پر بھی اور حکومت پر بھی مسلسل تنقید ہوتی ہے، مختلف صحافی حکومت پر تنقید کرتے رہتے ہیں اور بعض کالے چینلز بھی حکومت کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں، تاہم خیبرپختونخوا حکومت نے کبھی کسی کے خلاف غیرقانونی کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی جھوٹا پروپیگنڈا بھی کرے تو حکومت قانونی کارروائی صرف عدالتوں کے ذریعے کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں میں مخالف صحافیوں کو غائب کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور ہراساں کرنے جیسے واقعات سامنے آتے ہیں، لیکن خیبرپختونخوا میں اس نوعیت کے ہتھکنڈے نہیں اپنائے جاتے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت خیبرپختونخوا اسمبلی پورے پاکستان کی واحد اسمبلی ہے جو حقیقی عوامی مینڈیٹ سے وجود میں آئی ہے، اس لیے عوام کی رائے اور عوامی مفاد کو ہر فیصلے میں مقدم رکھا جائے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پارلیمنٹیرینز پرولیجز بل میں کی گئی ترامیم پر نظرثانی کی جائے گی اور آئندہ تمام اقدامات عوامی مفاد اور عوامی رائے کے مطابق کیے جائیں گے۔
اجلاس کے فیصلوں سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا ہیلتھ پالیسی 2026، خیبر پختونخوا پیشہ ورانہ تحفظ و صحت قواعد 2026، صوبائی موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 اور صوبائی موٹر وہیکلز رولز 1969 میں ذاتی رجسٹریشن نمبرکے نظام کو بہتر اور مزید مؤثر بنانے کے لئے ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی ہیلتھ پالیسی کا مقصد خیبر پختونخوا کو ایک ایسا صحت مند صوبہ بنانا ہے جہاں ہر شہری کو بلاامتیاز معیاری طبی سہولیات میسر ہوں، تاکہ عوام کی صحت بہتر ہو، صحت مند معاشرہ بنے اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ ملے۔
پالیسی کے تحت بہتر طبی خدمات، پائیدار مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نظام، تربیت یافتہ طبی عملہ، شواہد پر مبنی فیصلوں اور مؤثر شراکت داری کے ذریعے عوام دوست صحت کا نظام قائم کیا جائے گا۔شفیع جان نے بتایا کہ پالیسی میں صحت کے شعبے میں شفافیت، احتساب اور مؤثر نگرانی کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
اس مقصد کے لیے خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا جبکہ کارکردگی جانچنے، ڈیجیٹل رپورٹنگ اور مانیٹرنگ کا مؤثر نظام متعارف کرایا جائے گا۔ بنیادی صحت مراکز کی بہتری، بیسک ایمرجنسی زچہ و بچہ نگہداشت کی سہولیات میں اضافہ، لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کو مضبوط بنانا، صحت کارڈ کے تحت او پی ڈی سہولت کا دائرہ بڑھانا اور سکول ہیلتھ سروسز کا آغاز بھی پالیسی کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی کے تحت ثانوی اور خصوصی طبی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے آئی سی یو، سی سی یو، ٹراما اور برن سینٹرز قائم کیے جائیں گے، ٹیلی میڈیسن اور پالی ایٹو کیئر کو فروغ دیا جائے گا، کمزور کارکردگی والے صحت مراکز کو آؤٹ سورس کیا جائے گا، صحت کارڈ پلس کو مزید مؤثر بنایا جائے گا، بزرگ شہریوں کے لیے جیریاٹرک میڈیسن متعارف کرائی جائے گی اور میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز میں مزید اصلاحات کی جائیں گی۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ہیلتھ پالیسی میں عوام پر علاج کے مالی بوجھ کو کم کرنے، صحت کے لیے مقامی وسائل بڑھانے، ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی کمی دور کرنے، ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کو ڈیجیٹل بنانے، طبی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کو بہتر بنانے، ادویات اور ویکسین کی مسلسل دستیابی یقینی بنانے، بیماریوں کے پھیلاؤ کی نگرانی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی استعداد بڑھانے اور پانی، صفائی، غذائیت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے عوامل کو صحت کی پالیسی کا حصہ بنانے پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا پیشہ ورانہ تحفظ و صحت قواعد 2026 کی بھی منظوری دی ہے، جن کے تحت تمام اداروں میں محفوظ اور صحت مند کام کا ماحول یقینی بنایا جائے گا۔
قواعد کے مطابق آجر حفاظتی پالیسی مرتب کرنے، کام کی جگہ پر خطرات کی نشاندہی اور ان کے تدارک، ملازمین کو حفاظتی آلات فراہم کرنے اور حفاظتی انتظامات پر عمل درآمد کے پابند ہوں گے۔
50 یا اس سے زائد ملازمین والے اداروں میں سیفٹی اینڈ ہیلتھ نمائندے جبکہ 100 یا اس سے زائد ملازمین والے اداروں میں اہل سیفٹی اینڈ ہیلتھ افسران تعینات کیے جائیں گے۔
ملازمین کی تربیت، آگاہی، ہنگامی حالات سے نمٹنے، ابتدائی طبی امداد، طبی نگرانی، قوانین پر عمل درآمد اور پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کونسل کے قیام کی بھی ان قواعد میں گنجائش رکھی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کو انٹرنیشنل کرین فاؤنڈیشن کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے، جس کا مقصد صوبے میں کرین پرندوں اور ان کے قدرتی مسکن کا تحفظ ہے۔
اس شراکت داری سے سائنسی تحقیق، جنگلی حیات کے بہتر انتظام، مقامی آبادی کے لیے ماحول دوست سیاحت کے مواقع، جنگلی حیات سے متعلق جرائم کی روک تھام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں صوبے کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ نے پشاور میں صفوت غیور شہید میموریل ہسپتال کی توسیع کی منظوری بھی دی ہے تاکہ مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اسی طرح ضلع خیبر میں ایکسائز پولیس اسٹیشن کے قیام کے لیے جمرود کمپلیکس میں سرکاری اراضی کی منتقلی اور الاٹمنٹ کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے مرحوم ڈاکٹر خورشید عالم کے خاندان کے لیے ایک کروڑ روپے کے خصوصی امدادی پیکج جبکہ ضلع باجوڑ کے رہائشی اقبال خان کی زیر علاج بیٹی کے علاج کے لیے 35 لاکھ روپے کی مالی معاونت کی بھی منظوری دی۔
اس کے علاوہ پشاور آنے والی بلوچستان بس کے حادثے کے متاثرین کے لیے خصوصی امدادی پیکج کی بھی منظوری دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرہ خاندانوں اور زخمیوں کو امدادی رقم بلا تاخیر فراہم کی جائے۔
