کراچ(مہم نیوز)سندھ میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ الارمنگ سطح تک پہنچ چکا ہے، جہاں گزشتہ 15 ماہ کے دوران 1,500 سے زائد بچوں میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، جس نے عوامی صحت کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
حکام نے لاڑکانہ، قمبر اور شہدادکوٹ کو ‘ہائی رسک زونز’ قرار دیا ہے، جہاں وائرس کی منتقلی کا عمل وسیع پیمانے پر جاری ہے۔ رتوڈیرو میں بھی صورتحال بہتر نہیں ہو سکی ہے، حالانکہ وہاں ماضی میں سامنے آنے والے کیسز نے ملک بھر کی توجہ حاصل کی تھی۔
وفاقی محکمہ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ہر ماہ اوسطاً 101 بچے ایچ آئی وی کا شکار ہو رہے ہیں۔ متاثرہ بچوں میں 923 لڑکے اور 592 لڑکیاں شامل ہیں۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سنہ 2025 میں 1,186 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی (پہلے تین ماہ) میں اب تک 337 کیسز سامنے آچکے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کے 70 فیصد سے زائد کیسز صرف سندھ سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس اب صرف مخصوص گروہوں تک محدود نہیں رہا بلکہ تیزی سے عام آبادی میں بھی پھیل رہا ہے۔
