ماہرین اور عہدیداروں کے مطابق ایران پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی امریکی اور اسرائیلی شدید بمباری کے بعد بھی وہ زیادہ تر ضروری وسائل برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، جو اسے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار ہو سکتے ہیں۔
اس صورتحال نے اسے آئندہ کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں ایک اضافی دباؤ (پریشر) کا موقع فراہم کیا ہے، جیسا کہ امریکی اخبار ”وال اسٹریٹ جرنل” کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے اقتصادی اثر و رسوخ بھی بڑھایا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کا بنیادی مقصد اب بھی یہی ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق مذاکرات اس وقت ناکام ہو گئے، جب ایران نے مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے سے دستبرداری کا واضح وعدہ نہیں کیا، جسے واشنگٹن اپنی مہم کا اہم ہدف قرار دیتا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں ایران کی کئی تحقیقی لیبارٹریز اور تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جنہیں جوہری پروگرام سے منسلک سمجھا جاتا ہے، جبکہ یورینیم افزودگی کے نظام کو بھی متاثر کیا گیا ہے۔تاہم ماہرین کے مطابق ایران کے پاس اب بھی سنٹری فیوجز اور زیرِ زمین محفوظ تنصیبات موجود ہیں، جن کے ذریعے وہ افزودگی کا عمل جاری رکھ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے جوہری توانائی (IAEA) کے مطابق ایران کے پاس تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ انتہائی افزودہ یورینیم موجود ہے، جس کا کچھ حصہ زیرِ زمین سرنگوں میں محفوظ کیا گیا ہے۔
سابق امریکی عہدیدار ایرک بروئر کے مطابق ایران اس مواد سے آسانی سے دستبردار نہیں ہوگا اور آئندہ مذاکرات میں اس کے مطالبات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت ہو سکتے ہیں۔#ایرانی_جوہری_پروگرام
