ایران:رواں سال 28 فروری سے جاری جنگ کے تناظر میں امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے گذشتہ روز منگل کو پہلی بار ایران کے اوپر "بی-52 اسٹریٹوفورٹریس” طیاروں کی پرواز کا اعلان کیا۔
یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیارے ہیں جو متنوع مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایئر فورس کی ویب سائٹ کے مطابق یہ طیارے آواز کی رفتار سے کچھ کم رفتار پر 15166.6 میٹر کی بلندی تک اڑنے کی خصوصیت رکھتے ہیں۔
یہ طیارے ایٹمی یا روایتی ہتھیاروں کو انتہائی درستی کے ساتھ لے جانے اور عالمی سطح پر درست رہنمائی (نیویگیشن) کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
روایتی تنازعات میں بی-52 طیارے اسٹریٹجک حملے، قریبی فضائی مدد، فضائی روک تھام، طیارہ دشمن کارروائیاں اور بحری آپریشنز انجام دے سکتے ہیں۔
یہ بمبار طیارے سمندروں کی نگرانی میں انتہائی مؤثر ہیں اور بحری جہازوں کے خلاف کارروائیوں و بارودی سرنگیں بچھانے میں امریکی بحریہ کی مدد کر سکتے ہیں۔ صرف دو گھنٹے میں بی-52 کے دو طیارے 3 لاکھ 64 ہزار مربع کلومیٹر سمندری سطح کی نگرانی کر سکتے ہیں۔
تمام بی-52 طیاروں کو الیکٹرو آپٹیکل سینسرز، انفراریڈ ویژن اور جدید ترین گائیڈنس سسٹمز سے لیس کیا جا سکتا ہے تاکہ ہدف کو نشانہ بنانے کی درستی، جنگی جائزے اور پرواز کی سلامتی کو بہتر بنایا جا سکے۔
رات کے وقت آپریشنز کے دوران پائلٹ نائٹ ویژن چشمے استعمال کرتے ہیں، جو زمینی خدوخال کو دیکھنے، جنگی صورتحال سے آگاہی اور دیگر طیاروں کی شناخت میں مدد دے کر مشن کو مزید محفوظ بناتے ہیں۔
بی-52 طیارے ایسے جدید آلات سے لیس ہیں جو طویل فاصلے سے اہداف کی شناخت اور زمینی افواج کو مستقل فضائی مدد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امیج پروسیسنگ اور گائیڈنس ٹیکنالوجی کی بدولت یہ طیارے دن و رات اور ناموافق موسمی حالات میں بھی لیزر گائیڈڈ بموں، روایتی بموں اور جی پی ایس سسٹم سے لیس ہتھیاروں کے ذریعے زمینی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔
فضا میں ایندھن بھرنے کی سہولت بی-52 کی پرواز کی حد کو لا محدود بنا دیتی ہے، جس کا انحصار صرف عملے کی ہمت اور سکت پر ہوتا ہے۔
ایندھن بھرے بغیر اس کی جنگی پرواز کا دائرہ کار 14080 کلومیٹر سے زائد ہے۔
