دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی تھی جہاں ایک معمولی چنگاری بھی ایک بڑی جنگ کو جنم دے سکتی تھی۔ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ ایسے نازک حالات میں جب بیشتر ممالک صرف بیانات تک محدود دکھائی دیے، ایسے میں پاکستان نے ایک سنجیدہ اور متوازن سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ وہ محض ایک علاقائی ملک نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے ایک ذمہ دار ریاست ہے۔
میری نظر میں حالیہ بحران میں پاکستان کی قیادت نے جس تدبر اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین بھی ہے اور قابلِ تقلید بھی۔وزیراعظم میاں شہباز شریف اور پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس صورتحال کو محض ایک سیاسی یا عسکری معاملہ نہیں سمجھا بلکہ اسے انسانی اور عالمی امن کے تناظر میں دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے مسلسل سفارتی روابط اور ثالثی کی کوششیں ہوئیں اور جاری رہیں، جن کا مقصد صرف ایک ہے—جنگ کو روکنا اور مذاکرات کی راہ کو زندہ رکھنا۔یہ بات پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے کہ عالمی سطح پر بھی اس مثبت کردار کو تسلیم کیا گیا۔
آج جب ایک بار پھر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان سامنے آیا ہے اور اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ کہنا کہ جنگ بندی میں توسیع پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر کی گئی، دراصل پاکستان کی سفارتی اہمیت کا اعتراف ہے۔عالمی سطح پر اسے پاکستان کی مسلسل اور سنجیدہ کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس پیش رفت نے نہ صرف ممکنہ جنگ کے خطرات کو وقتی طور پر کم کیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ مسائل کا حل طاقت نہیں بلکہ مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی طاقت اس کا توازن ہے۔ایک طرف ایران پاکستان کا قریبی ہمسایہ ہے، جس کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی رشتے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری طرف امریکہ کے ساتھ پاکستان کے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ یہی متوازن تعلقات پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے لاتے ہیں جو تنازعات میں فریق بننے کے بجائے ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔موجودہ صورتحال نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے۔
اگر ایران اور امریکہ کے درمیان مکمل جنگ چھڑ جاتی تو اس کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہ رہتے۔عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں مزید آسمان کو چھونےلگتی، تجارتی راستے متاثر ہوتے اور خطے میں عدم استحکام کی ایک نئی لہر پیدا ہو جاتی۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال مزید مشکلات کا باعث بنتی۔اس تناظر میں پاکستان کی بروقت سفارتی کوششیں نہ صرف دانشمندانہ بلکہ ناگزیر بھی تھیں۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان نے اس تمام صورتحال میں جذباتیت کے بجائے حکمت اور سنجیدگی کا راستہ اختیار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سفارتی سرگرمیاں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قومی قیادت جب یکسو ہو کر کام کرے تو بڑے سے بڑا بحران بھی قابو میں لایا جا سکتا ہے۔
یہی اتحاد اور یکجہتی کسی بھی ملک کی اصل طاقت ہوتی ہے۔بطور ایک پاکستانی شہری، مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی حالیہ سفارتکاری نے دنیا میں اس کے مثبت تشخص کو مزید مضبوط کیا ہے۔
ماضی میں پاکستان کو اکثر صرف سکیورٹی یا علاقائی مسائل کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، مگر اب حالات بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔آج پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو امن کی بات کرتا ہے،مذاکرات کی حمایت کرتا ہے اور عالمی سطح پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
میری رائے میں پاکستان کو اس مثبت سمت کو برقرار رکھنا چاہیے۔دنیا کو آج طاقت کے مظاہروں سے زیادہ دانشمند قیادت کی ضرورت ہے، اور اگر پاکستان اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکے گا بلکہ عالمی امن کے قیام میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو جنگوں کو روکنے اور امن کو فروغ دینے میں کردار ادا کرتی ہیں۔
موجودہ حالات میں پاکستان کی سفارتی کوششیں اسی سمت میں ایک اہم قدم ہیں۔
امید کی جانی چاہیے کہ جنگ بندی میں ہونے والی یہ توسیع مستقل امن کی بنیاد بنے گی، اور پاکستان اپنی سنجیدہ اور مثبت سفارتکاری کے ذریعے اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
